ٹیچرز کے لیئے ایک منعفت بخش کاروبا
میرے ایک دوست ہیں جنہوں نے اپنی پچیس سالہ ٹیچنگ کی ملازمت سےمستقل مزاجی ہی سیکھی، اس کے پاس تعلیم تھی اور پڑھانے کا تجربہ بھی ۔۔۔ ریاضی انگلش اور سائنسی مضامین کے علاوہ اسے کمپیوٹر پہ بھی مہارت حاصل تھی ، اس لئے اس نے اپنی تعلیم کو مستقبل کے خوشحال راستوں کے لئے رہنما بنا لیا، گھر کے بالائی پورشن پہ رہائش اختیار کی اور نیچے والے پورشن میں اکیڈمی کا سیٹ اپ بنا لیا، نیچے والے پورشن میں چار روم تھے ، ایک آفس بنا لیا اور تین کلاس روم سیٹ کر لئے ۔۔مکان اپنا تھا اور ٹیچر وہ خود تھا ، چاروں کمروں میں رنگ و روغن اور کارپٹ بچھانے پہ 20 ہزار لگے اور 3 ہزار کے اشتہار چھپوا کر علاقے میں لگوا دئیے ، چونکہ ان کی ساری سروس مقامی ہائی سکول میں رہی تو علاقہ سے سٹوڈنٹس ملنا کچھ مشکل نہ تھا ، تعداد آہستہ آہستہ بڑھنے لگی اور جگہ کم پڑتی گئی ، اپنے ہم عصروں کی خدمات بھی لے لی گئیں اور تعداد میں بتدریج اضافہ ہوتا گیا ،
اکیڈ می کے چار سیشن ہوگئے ،
پہلا سیشن صبح 8 سے 10 بجے تک پرائیویٹ تیاری کرنے والے سٹوڈنٹس کا سیشن تھا ، جن میں میٹرک ، ایف ۔ اے اور بی۔ اے اور ایم ۔ اے کے طلبا ء تھے ۔۔
دوسرا سیشن 1 سے 3 بجے تک تھا جس میں پرائیویٹ طالبات پڑھتی تھیں اور اس کے لئے باقاعدہ ایک ریٹائرڈ فی میل کی خدمات لی گئیں تھیں ،
تیسرا سیشن سکول کے حالیہ سٹوڈنٹس کے لئے ہوتا جو شام کے وقت آسانی سے تعلیم پہ توجہ دے سکتے تھے ۔
چوتھا سیکشن انگلش لینگویج اور کمپیوٹر کلاسز کا تھا جو شام پانچ سے رات 10 بجے تک جاری رہتا ۔
ایک ہی سال میں ہر سیشن میں 15 سے 20 طلبا/ طالبات تھے ، اس حساب سےکل تعداد 200 کے لگ بھگ تھی ، شہاب غوری نے ایک ہی سال میں چار اور ٹیچرز کو بھی اپنے ساتھ شامل کر لیا تھا جن میں سے ایک انگلش لینگویج کا ٹیچر ایک کمپیوٹر انسٹرکٹر اور کالج سطح کے مضامین کے لئے ایک پروفیسر اور طالبات کے لئے ایک ریٹائرڈ فی میل ٹیچر ۔۔۔ ان کے علاوہ صفائی کے لئے دو ماسیاں بھی رکھی گئیں ۔۔۔ پہلے پہل شہاب غوری تنخواہ اپنی جیب سے دیتا رہا بعد ازاں جب تعداد بڑھ گئی تو ٹینشن جاتی رہی ، ایک ہی سال میں تعداد پوری ہو چکی تھی ، شہاب غوری کی کم فیس کی وجہ سے سٹوڈنٹس کی تعداد میں خاطر خواہ اضافہ ہوگیا ، فیس کا شیڈول کلاسز کے حساب سے مختلف تھا، فیس کی مد میں تقریباً 1 لاکھ 23 ہزار روپے وصول ہو رہے تھے ، تنخواہوں کی مد میں 52 ہزار خرچ ہو جاتے ، بجلی کے بلز اور جنریٹر کی مینٹیننس وغیرہ کی مد میں دس ہزار لگ جاتے ، کل ملا کر ماہانہ پچاس ہزار روپے بچ رہے تھے ، پہلے سال کی رقم تنخواہوں کی مد میں چلی گئی تاہم دوسرے سال میں ماہانہ پچاس ہزار روپے کی رقم سال بھر میں پانچ لاکھ سے تجاوز کر چکی تھی ، گھر کا خرچ پنشن پہ چل رہا تھا ، باقی رقم بینک میں تھی ،جس میں سال بھر کے پانچ لاکھ روپوں کا اضافہ ہورہا تھا ،
تیسرے سال میں اس کی قسمت مزید چمک گئی جب بورڈ میں اکیڈمی کے ایک میٹرک سٹوڈنٹ کی پوزیشن آگئی ، اب دھڑا دھڑ لوگوں نے اکیڈمی کا رخ کرنا شروع کیا ، اپنے لئے سات ہزار روپے ماہانہ پہ مکان لیا اور اوپر والے پورشن کو بھی اکیڈمی کا حصہ بنا لیا ، چوتھے سال میں ریکارڈ ساز ترقی ہوئی ، نام روشن ہونے کی وجہ سے فیسیں بھی بڑھ گئیں ، محنت اور قابلیت کے بل بوتے پہ پانچ سو کے لگ بھگ تعداد ہوگئی اور ماہانہ دو لاکھ روپے کی بچت ہونے لگی۔۔اگلا سال اس سے بھی زیادہ شاندار رہا ، محض پانچ سال میں اس نے 70 لاکھ روپے کما لئے ، 4 لاکھ دو بیٹیوں کی شادیوں پہ لگ گئے ، 15 لاکھ روپے سے بیٹے کو ایک ریسٹورینٹ بنا دیا ، اور 35 لاکھ روپے سے شہر کے پوش ایریا میں اکیڈمی کے سب کیمپس کے لئے ایک مکان لے لیا ۔۔شہاب غوری کا اگلا ہدف ایک شاندار پرائیویٹ سکول کا ہے ۔۔۔یہ ہے تعلیم کا کمال۔۔۔سرمایہ نہ ہو تو تعلیم کو اس طرح کام میں لایا جا سکتا ہے۔۔
اپنی زندگی کےپچیس سال ملازمت کو دینے والا اگر صلاحیتوں کے صحیح استعمال سے واقف ہو جائے تو وہ حیرت انگیز بلندیوں کو چھو لیتا ہے۔۔اگر آپ تعلیم یافتہ ہیں تو اپنے آپ کو دیکھئے سوچئے اور پھر فیصلہ کیجئے کہ اپنی تعلیم کی سرمایہ کاری بطور ایک پروفیشنل کیسے کر سکتے ہیں ؟؟؟؟
No comments:
Post a Comment