آمش لوگ۔۔
امریکہ میں شمالی جرمنی سے نقل مکانی کرکے آنے والے ایک قبیلے کو بھی اپنا علیحدہ تشخص منوانے اور برقرار رکھنے کا مسئلہ درپیش تھا لہذاٰ وہ 1683 ءسے امریکہ آ کر آباد ہوئے اور جس جگہ آ کر آباد ہوئے اس جگہ کا نام انہوں نے ”جرمن ٹاؤن“ رکھا اور یہ جگہ فلاڈلفیا میں موجود ہے....
آج جہاں یہ سچ ہے کہ امریکہ کی ٹیکنالوجی کی یلغار اور بنیاد پرستی کے خلاف مہم نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لیا ہے وہاں یہ بھی سچ ہے کہ امریکہ کے اندر ایک ایسی قوم آباد ہے جو قدیم روایات اور مذہبی اقدار پر بالکل اسی طرح کاربند ہے جیسے کہ صدیوں پہلے ان کے قبیلے کے افراد نے انہیں تعلیمات دے دی تھیں۔ آمش افراد بغیر پٹرول اور گیس کے ”بگھیاں“ استعمال کرتے ہیں گھوڑا گاڑی پر سفر کرتے ہیں‘ فصلیں اگاتے ہیں اور جانوروں کے گوبر کھاد کی شکل میں استعمال کرتے ہیں....ہر گھر میں گھوڑے پالے جاتے ہیں وہ لوگ دودھ سٹور کرتے ہیں اور بیچتے ہیں ”آمش“ نوجوان کو کم عمری سے فارم ہاؤسسز بنانے کی تربیت دی جاتی ہے اور تمام قبیلے کے لئے نصاب ایک جیسا ہے اور آمش قبیلے کا ایک قول یہ بھی ہے کہ ”اعلٰی معیار زندگی سے محبت درحقیقت مال و زر کی پوجا کرنا ہے اس سے زیادہ اس کی حقیقت کچھ نہیں ہے“.
اکیسویں صدی میں امریکہ جیسے سب سےزیادہ صنعتی ترقی یافتہ ملک میں ایک قبیلہ ایسا بھی ہے۔ جس نے جدید دنیا کی تمام اشیا اور طرز زندگی کو قبول کرنے سے انکار کردیا۔۔وہ دو تین سو سال پہلے کی زندگی مین منجمد ہو چکے ہیں۔ ان کا سب سے بنیادی انکار بجلی اور اس کی بنائی کسی بھی چیز سے ہے۔ وہ پرانی سادہ زندگی گزارنے پر مصر ہیں۔ چنانچہ ان کی ایک اپنی طرز زندگی، اپنی اقدار، اپنے اصول اور معاشرتی قاعدے ہیں۔ مذہبی لحاظ سے کرسچن ہیں۔ نسلی طور پر جرمنی سے ان کا تعلق ہے۔ بچون کو تعلیم صرف بنیادی نوعیت کی دی جاتی ہے۔ دستکاری، کھیتی باڑی ان کے پیشے ہیں۔ اپنی ضرورت کی اشیا خود ہی بنا لیتے ہیں۔ میں انہیں بڑے اشتیاق کے ساتھ دیکھنے گیا۔ ان کے رہنے سہنے کا ماحول نہائت صاف ستھرا ہے۔جیسے عمومی طور پرامریکہ کا معیار ہے۔ ان کی آبادی ڈھائی لاکھ کے قریب کہی جاتی ہے۔ یہ زیادہ تر پینسلوانیا امریکی ریاست میں رہتے ہیں۔۔ ان کا لباس سادہ سا ہے۔ گھوڑا گاڑی کا استعمال کرتے ہیں۔ ۔ لڑکیاں خوبصورت اور معصوم سی لگتی ہیں۔ شادی کے بعد مرد لمبی داڑھی رکھتے ہیں۔ ان لوگوں نے جدید دنیا کو قبول کرنے سے کیوں انکار کردیا ہوا ہے۔۔جب کہ چاروں طرف زبردست جدید دنیا کی ٹیکنالوجی اور طرز زندگی کا پریشر موجود ہے۔ انسان بہت ہی کمپلکس چیز کا نام ہے۔ یہ کہاں کس وقت کدھرنکل جائے کچھ کہنا مشکل ہے۔ معاشرتی،ثقافتی، تاریخی، نفسیاتی، جبلی،genetically زرا سے فرق سے کیا سے کیا بن جاتا ہے۔ ان کو دیکھتے ہوئے مجھے اپنے یہاں کا کیلاش قبیلہ یاد آ گیا۔ ہم نے ان کو کتنے گندے پس ماندہ ماحول میں رکھا ہوا ہے۔ کیلاش آبادی مسلسل کم ہوتی جارہی ہے۔ جب کہ آمش قبیلے کی آبادی میں مسلسل اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ اوسط گھرانے میں 13 بچے ہوتے ہیں۔ یہ محفوظ اور صاف ستھرے ماحول میں اپنی طرح سے جی رہے ہیں
مرشدانہ تحقیق
گزشتہ سے پیوستہ











