Showing posts with label Urdu. Show all posts
Showing posts with label Urdu. Show all posts

Sunday, 7 March 2021

Money Secret

 میرا تعلق مڈل کلاس گھرانے سے ہے۔ رشتے دار، دوست یار، جاننے والے، غرض کے سب ہی مڈل کلاس فیملیوں سے تعلق رکھتے ہیں

ایک چیز جو میں نے مڈل کلاس گھرانوں کے حوالے سے سیکھی ہے وہ یہ ہے کہ ان گھرانوں کی سوچ میں فنانشل معاملات خاص کر کام کے حوالے سے بہت خوف موجود ہوتا ہے۔ یہ اپنی اگلی نسل میں اس خوف کو "حفاظت" کے نام پر منتقل کردیتے ہیں
ان فیملیوں میں اپنے بچوں کو رسک لینے سے خوب ڈرایا جاتا ہے۔ ناکامی سے ہر صورت بچنے تلقین کی جاتی ہے۔ کوئی نیا اور بھیڑ چال سے ہٹ کر قدم اٹھانے کو انتہائی غلط باور کرایا جاتا ہے
نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ مڈل کلاس گھرانوں کے بچے شروع سے ہی روٹین لائف میں خود کو قید کرلیتے ہیں۔ وہ اس سائیکل سے باہر نکلنے کی کبھی ہمت ہی نہیں کرتے اور مطمئن ہوکر لگی بندھی زندگی گزارنے کو ترجیح دیتے ہیں
مڈل کلاس گھرانوں میں پیسے کو بینک میں جمع کرنے اور صرف پراپرٹی جیسی محفوظ سرمایاکاری میں لگانے کا درس دیا جاتا ہے
اسکے برعکس، اپر کلاس میں اپنے بچوں کی تربیت مختلف انداز سے کی جاتی ہے۔ انھیں بچپن سے رسک لینا سکھایا جاتا ہے۔ کچھ نیا کرنے پر اکسایا جاتا ہے۔ نقصان کو پارٹ آف دا لائف بتایا جاتا ہے۔
یہاں پیسے کو جمع کرنے کی بجائے اسے ٹول کے طور پر استعمال کرنے کا درس دیا جاتا ہے۔ نت نئی انویسٹمنٹ کرنے کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے۔ یہ محفوظ نوکری کی بجائے، رسک والے پر تیزی سے ترقی کرنے والے کام کو ترجیح دیتے ہیں
آپ میں سے کچھ لوگ سوچیں گے کہ اپر کلاس کے پاس پیسہ موجود ہوتا ہے اسی وجہ سے وہ فنانشل معاملات میں aggressive ہوتے ہیں
یہ حقیقت ہے پر ہر کیس میں ایسا نہیں ہوتا۔ بہت سے لوگ مڈل تو کیا، لوئر مڈل کلاس سے تعلق رکھنے کے باوجود صرف اس لیے ترقی کرجاتے ہیں کہ ان کی فنانشل اپروچ بہت جارحانہ ہوتی ہے
مڈل کلاس گھرانوں کے لیے پیسہ، مصیبت کے وقت کام آنے والی چیز ہے۔ لہذا وہ ان دیکھی مصیبت کے انتظار میں پیسے کو بینکوں میں جمع کرتے رہتے زندگی گزار دیتے ہیں
امیر گھرانوں کے لیے پیسہ آگے بڑھنے اور نئے مواقع آزمانے کا ٹول ہے۔ لہذا وہ اس ٹول کا مسلسل استعمال کرتے رہتے اور آگے سے آگے بڑھتے چلے جاتے ہیں
یہی اپروچ کا بنیادی فرق ہے
اگر آپ بھی ترقی کرنا چاہتے ہیں تو آپ کو اپنی سوچ لازمی بدلنی ہوگی۔ بینکوں میں پیسے جمع کرکے آپ نقصان سے تو محفوظ رہ سکتے ہیں پر زندگی میں کبھی ایک خاص حد سے آگے نہیں بڑھ سکتے
ترقی کرنے کا ایک ہی رول ہے وہ ہے پیسے کو بطور ٹول استعمال کرنا اور چھوٹی چھوٹی رقموں سے نت نئے تجربات کرنا
اس حوالے سے کسی mentor کو ساتھ ملا لیجیے تو نقصان کا اندیشہ بہت کم ہوجائے گا
زندگی ایک بار ملتی ہے۔ اسے لگی بندھی ڈگر پر نہ گزاریے
بینکوں میں پیسہ جوڑنے سے بہتر ہے کہ اس سرمائے سے چھوٹے چھوٹے چانس لیتے رہئیے۔۔۔۔۔!!!!
نوٹ: یہ بہت تفصیل طلب موضوع ہے۔ ایک الگ سوچ ہے جس سے بہت سے دوست احباب یقیناً اختلاف کرنا چاہیں گے۔ آپ کے ایسے تمام اعتراضات اور سوالات کا پوسٹوں کی شکل میں وقتاً فوقتاً جواب دیتا رہوں گا
ایک بات کا ذکر کرتا چلوں۔ میری وال پر میں ایسا مشورہ میں کبھی نہیں دیتا جس پر کئی سالوں سے خود عمل پیرا نہ ہوں۔ یہاں اپنے تجربات کا نچوڑ ہی پیش کرتا ہوں
.
Copied from
Shahzad Hussain timeline
Thanks to Malik Saad Awan



100 % Made in Pakistan

 پاکستان میں ابھی بھی تیرہ فیصد مزید کاروباروں کی ضرورت ہے اس میں آن لائن یا آٹی ٹی سے متعلق کاروبار شامل نہیں ہیں

کاروانِ روزگار ( معاشی تبلیغی دورہ) ایک دن کا یا ایک سال کا فیصلہ نہیں ہے اس میں برسوں کی ریاضت اور تحقیق شامل ہے
جیسا کہ میں دوستوں کے ساتھ بزنس آئیڈیاز شیئر کر رہا ہوں تو جب مجھے منفی ریمارکس، ڈر، خوف ، نوکری چھوڑ کر کاروبار شروع کرنے میں تامل یا ہچکچاہٹ یا اور تحفظات اور سوالات کا سامنا کرنا پڑتا تھا تو یقینا بحیثیت ایک پروفیشنل کنسلٹنٹ جس نے خوش قسمتی سے انگلینڈ اور یوروپین یونین جیسے بڑے کاروباری ممالک کے ساتھ بحیثیت
Business Development
اور ایکسپورٹ پروموشن کے شعبوں میں کام کیا ہوا ہے
تو سب سے پہلے میں نے ایک روائتی طریقہ اپنایا کہ ایک طویل ریسرچ کے بعد جسمیں کئ ممالک کے دورے بھی شامل تھے اور ماہرین کی ٹیم بھی شامل تھی تو پاکستانی وفاقی اور صوبائ حکومتوں کو سفارشات مرتب کر کے بھیج دیں
لیکن وہ حسب توقع یا تو ردی کی نظر ہو گئیں یا کسی کونے میں رکھ دی گئیں
بیرون ملک رہنے والے پاکستانیوں کی اکثریت کو حکومتوں سے واسطہ نہیں ہوتا
ہمارے دلوں میں پاکستان یا وہ لوگ دھڑکتے ہیں جن کے ساتھ ہم نے اپنا بچپن گزارا ہوتا ہے یا جن کے ساتھ ہم گلیوں میں کھیلا کرتے تھے
جب بھی کبھی پاکستان کا چکر لگا تو بخدا پاکستان کو “اگلوں حالوں بی گیا “
ملک پایا
جبکہ میں نے ذاتی طور پر دنیا کی کئ ریاستوں کو ترقی کی معراج پر پہنچتے دیکھا
چنانچہ یہی تکلیف تھی کہ کیسے میرے اپنے لوگوں کا معیار زندگی بلند نہیں تو بہتر ضرور ہو
پہلے پاکستان میں لوگوں کو کھانا کھلانے کے لیئے فوڈ بینک کھولنے کا پروگرام بنا امریکہ میں این جی او بھی رجسٹر کروا لی
لیکن وہ میرے مزاج اور فطرت کے خلاف کام تھا
پھر سوچ سوچ کے کہ کوئ ایسا طریقہ کیا ہو جسمیں عوامی سطح پر کاروباری شعور اجاگر کیا جاۓ
اپنی قوم کے لوگوں کو مغرب میں رائج طریقوں سے کاروباری رموز سے آگاہ کیا جاۓ چنانچہ سوشل میڈیا کا سہارا لیا گیا
اوردوستوں اور فالورز کے مثبت رویے سے حوصلہ بڑھا کہ چنگاری موجود ہے اور منفی رجحانات سے تحقیق اور ریسرچ کی راہ ہموار ہوئ اور یہ نتیجہ اخذ کرنے اور اصل خرابی کی جڑ پکڑنے میں آسانی ہوئ کہ اس کا
اصل میں حل کیا ہے ؟
جب معاشی دورے کا پلان ذہن میں آیا تو اس کی جزئیات کو عملی شکل تک لانے میں قریبا ایک سال لگا اور ابھی جا کر جب یہ پریکٹیکلی لانچ کرنے کے قریب ہے تو اب اس سلسلے میں مجھے
آپ سب دوستوں کی انتہائ مدد درکار ہے
آپ یقین کریں کہ دنیا میں اپنی نوعیت کا پہلا پروگرام ہے جسمیں اپنے ملک اور ملک کے نوجوانوں سے خلوص دل سے محبت کرنے والی نامور کاروباری شخصیات ، زرعی اور آئ ٹی کے مانے ہوۓ ماہرین ، فنانس کے شعبے سے متعلق ، اینجل انوسٹرز ، ٹورزم کے شعبے کے مانے ہوۓ لوگ ، کارپوریٹ بزنس سے تعلق رکھنے والے لوگ ، صنعتی میدان کے شہسوار آپ کی دہلیز ہر آ کر نہ صرف آپ کی نۓ کاروبار کے سلسلے میں راہنمائ کریں گے بلکہ آپ کے ساتھ اس وقت تک ایک کنسلٹنٹ کی حیثیت سے آپ کی راہنمائ کرتے رہیں گے جب تک آپ کا کاروبار چل نہ نکلے کیونکہ میرا ذاتی طریقۂ کار یہی ہے
اور ہر دو مہینے بعد یہ دورہ ہوا کرے گا جسمیں ہم اسے تحصیل لیول تک لے کر آئیں گے
آپ ایک ایسا پروگرام شروع کرنے جا رہے ہیں کہ کل جس کی دوسرے ممالک تقلید کریں گے اور انشاءاللہ یہ کانسیپٹ یا ماڈل میڈ ان پاکستان 🇵🇰 ہو گا
انشاءاللہ
پاکستان 🇵🇰پائندہ باد

آمش لوگ۔۔

آمش لوگ۔۔
امریکہ میں شمالی جرمنی سے نقل مکانی کرکے آنے والے ایک قبیلے کو بھی اپنا علیحدہ تشخص منوانے اور برقرار رکھنے کا مسئلہ درپیش تھا لہذاٰ وہ 1683 ءسے امریکہ آ کر آباد ہوئے اور جس جگہ آ کر آباد ہوئے اس جگہ کا نام انہوں نے ”جرمن ٹاؤن“ رکھا اور یہ جگہ فلاڈلفیا میں موجود ہے....
آج جہاں یہ سچ ہے کہ امریکہ کی ٹیکنالوجی کی یلغار اور بنیاد پرستی کے خلاف مہم نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لیا ہے وہاں یہ بھی سچ ہے کہ امریکہ کے اندر ایک ایسی قوم آباد ہے جو قدیم روایات اور مذہبی اقدار پر بالکل اسی طرح کاربند ہے جیسے کہ صدیوں پہلے ان کے قبیلے کے افراد نے انہیں تعلیمات دے دی تھیں۔ آمش افراد بغیر پٹرول اور گیس کے ”بگھیاں“ استعمال کرتے ہیں گھوڑا گاڑی پر سفر کرتے ہیں‘ فصلیں اگاتے ہیں اور جانوروں کے گوبر کھاد کی شکل میں استعمال کرتے ہیں....ہر گھر میں گھوڑے پالے جاتے ہیں وہ لوگ دودھ سٹور کرتے ہیں اور بیچتے ہیں ”آمش“ نوجوان کو کم عمری سے فارم ہاؤسسز بنانے کی تربیت دی جاتی ہے اور تمام قبیلے کے لئے نصاب ایک جیسا ہے اور آمش قبیلے کا ایک قول یہ بھی ہے کہ ”اعلٰی معیار زندگی سے محبت درحقیقت مال و زر کی پوجا کرنا ہے اس سے زیادہ اس کی حقیقت کچھ نہیں ہے“.
اکیسویں صدی میں امریکہ جیسے سب سےزیادہ صنعتی ترقی یافتہ ملک میں ایک قبیلہ ایسا بھی ہے۔ جس نے جدید دنیا کی تمام اشیا اور طرز زندگی کو قبول کرنے سے انکار کردیا۔۔وہ دو تین سو سال پہلے کی زندگی مین منجمد ہو چکے ہیں۔ ان کا سب سے بنیادی انکار بجلی اور اس کی بنائی کسی بھی چیز سے ہے۔ وہ پرانی سادہ زندگی گزارنے پر مصر ہیں۔ چنانچہ ان کی ایک اپنی طرز زندگی، اپنی اقدار، اپنے اصول اور معاشرتی قاعدے ہیں۔ مذہبی لحاظ سے کرسچن ہیں۔ نسلی طور پر جرمنی سے ان کا تعلق ہے۔ بچون کو تعلیم صرف بنیادی نوعیت کی دی جاتی ہے۔ دستکاری، کھیتی باڑی ان کے پیشے ہیں۔ اپنی ضرورت کی اشیا خود ہی بنا لیتے ہیں۔ میں انہیں بڑے اشتیاق کے ساتھ دیکھنے گیا۔ ان کے رہنے سہنے کا ماحول نہائت صاف ستھرا ہے۔جیسے عمومی طور پرامریکہ کا معیار ہے۔ ان کی آبادی ڈھائی لاکھ کے قریب کہی جاتی ہے۔ یہ زیادہ تر پینسلوانیا امریکی ریاست میں رہتے ہیں۔۔ ان کا لباس سادہ سا ہے۔ گھوڑا گاڑی کا استعمال کرتے ہیں۔ ۔ لڑکیاں خوبصورت اور معصوم سی لگتی ہیں۔ شادی کے بعد مرد لمبی داڑھی رکھتے ہیں۔ ان لوگوں نے جدید دنیا کو قبول کرنے سے کیوں انکار کردیا ہوا ہے۔۔جب کہ چاروں طرف زبردست جدید دنیا کی ٹیکنالوجی اور طرز زندگی کا پریشر موجود ہے۔ انسان بہت ہی کمپلکس چیز کا نام ہے۔ یہ کہاں کس وقت کدھرنکل جائے کچھ کہنا مشکل ہے۔ معاشرتی،ثقافتی، تاریخی، نفسیاتی، جبلی،genetically زرا سے فرق سے کیا سے کیا بن جاتا ہے۔ ان کو دیکھتے ہوئے مجھے اپنے یہاں کا کیلاش قبیلہ یاد آ گیا۔ ہم نے ان کو کتنے گندے پس ماندہ ماحول میں رکھا ہوا ہے۔ کیلاش آبادی مسلسل کم ہوتی جارہی ہے۔ جب کہ آمش قبیلے کی آبادی میں مسلسل اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ اوسط گھرانے میں 13 بچے ہوتے ہیں۔ یہ محفوظ اور صاف ستھرے ماحول میں اپنی طرح سے جی رہے ہیں
مرشدانہ تحقیق

گزشتہ سے پیوستہ















بے روزگار ملازم

 یہ وہ کمپیوٹر پروگرامز ہیں جسے چند دنوں یا ہفتوں میں سیکھ کر گھر سے ، محلے میں یا مارکیٹ میں دکان/ دفتر بنا کرذاتی کاروبار شروع کیا جا سکتا ہے

17سے 23سال تک کی عمر کے نوجوانوں کی تعداد اس وقت پاکستان میں ساڑھے 6کروڑ ہے، جبکہ مجموعی نوجوانوں کا شمار کہیں زیادہ ہے۔ اس تناسب سے برسرروز گار نوجوانوں کا اندازہ لگانا بہت آسان ہے کیونکہ بیروز گار نوجوان وافر مقدار میں دستیاب ہیں۔ جو انتہائی کسمپرسی کی سی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں کیونکہ ان کو گھر والے اور محلے والے بوجھ سمجھتے ہیں۔ نوجوان طبقہ عموماً میٹرک، ایف۔ اے کے بعد سے ہی حصول ملازمت کی تگ و دو میں مصروف دکھائی دیتے ہیں۔ دن رات مختلف محکموں کے خالی آسامیوں والے اشتہارات دیکھنا ان کا مشغلہ بن جاتا ہے جبکہ اپنے ڈاکومنٹس والی فائل تیار کر کے رکھی ہوتی ہے۔ ایسے نوجوان ڈگریاں وصول کرنے پر حصول ملازمت کے لیے اپنے ذاتی کوائف (c.v) تمام میسر طریقوں سے مختلف سرکاری و پرائیویٹ محکموں میں صرف پہنچا کر ہی دم نہیں لیتے بلکہ پھر مطلوبہ محکموں میں ان کی آمدو رفت لگی رہتی ہے۔ جس سے وقت کے ساتھ ساتھ خطیر رقم بھی خرچ ہوتی ہے۔ جبکہ اس کشمکش سے دو چار ہونے والے لاتعداد نوکری کے متمنی خواتین وحضرات گھریلو معاملات میں خود کو مبرا سمجھتے ہیں اور دوسرا کوئی (عارضی یا مستقل طور پر)کام دھندابھی نہیںکرتے ۔ پوچھنے پر ایک ہی جواب دے کر سامنے والے کو مطمئن کر دیتے ہیں یا انہیں قائل کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ ”جاب کے لیے اپلائی کیا۔ ہوا ہے“
ہمہ وقت جوابی کال یا لیٹر کے انتظار میں سرگرداں رہنا اپنا وطیرہ بنا لیتے ہیں۔ بلکہ ان کی بے چینی یہاں تک بڑھ جاتی ہے کہ آتے جاتے پوسٹ آفس والوں سے پوچھتے ہیں کہ میرے لیے کوئی لیٹر آیا ہے تو دے دیں یا اگر آئے تو جلد از جلد پہنچادینا۔ بسا اوقات بعض امیدواران جائز و ناجائز حربے استعمال میں لا کر منزل مقصود تک پہنچ بھی جاتے ہیں۔ میں حصول ملازمت کے خواہشمند خواتین و حضرات کو چند ایک کمپیوٹر سے منسلک پروگرامز کا مشورہ دینا چاہوں گا، جن کے سیکھنے سے آپ ہنر مند بھی بن جائیں گے اور حصول ملازمت کے مواقعوں میں بھی اضافہ ہو گا۔ مائیکرو سافٹ آفس(MS) ، ان پیج کمپوزنگ (اردو، انگلش)، ڈیزائننگ (کورل ڈرا، ایڈوب فوٹو شاپ)نیٹ ورکنگ، اخبارات کے لیے آرٹیکلز لکھنا، ویب ڈویلپنگ، آٹو کیڈ اور ویڈیو ایڈیٹنگ یا اس سے ملتے جلتے جو آپ کو زیادہ مناسب لگتے ہیں جس پر آپ جلد گرفت کر سکیں(کوکنگ کے حوالے سے اچھی مہارت حاصل کی جا سکتی ہے جس کا فائدہ کسی ملازمت کی صورت میں اگر نہ بھی ہوا تو تا زندگی گھر میں آپ کے شوہر کو یا آپ کی بیوی اور اہل خانہ کو کھانا کھانے کا مزہ دوبالا ہو جائے گا)میں ان سب کورسز سے پہلے آپ کو قرآن مجید کا ترجمہ اور انگلش بول چال میں مہارت حاصل کرنے کی ترجیح دوں گا۔
یہ وہ کمپیوٹر پروگرامز ہیں جسے چند دنوں یا ہفتوں میں سیکھ کر گھر سے ، محلے میں یا مارکیٹ میں دکان/ دفتر بنا کرذاتی کاروبار شروع کیا جا سکتا ہے، جس کے بے شمار فوائد ہیں اور دوررس نتائج بھی برآمد ہوں گے۔ (سیکھنے کے لیے کسی موزوں انسٹیٹیوٹ یا یوٹیوب سے استفادہ حاصل کیا جا سکتا ہے) جبکہ ساتھ ساتھ آپ حصول ملازمت کے لیے بھی اپنی توانائی صرف کر سکتے ہیں۔ بیروزگاری جیسے اژدھام کا قلع قمع کرنے کے بعد آپ جب ملازمت کی صورت میں برسرروزگاربن جاتے ہیں تو پھر آپ اپنے مجبوری کے عالم میں شروع کیے ہوئے ذاتی کاروبار کو پارٹ ٹائم رکھیں یا اسے خیر باد کہہ دیں یہ آپ کی ملازمت و طبیعت پر منحصر ہے۔ ویسے تو سرکاری و نیم سرکاری اچھی ملازمت ملنا مقدر کی بات ہے لہٰذا ”کہیں نہ کہیںصرف قابلیت بھی کام آ جاتی ہے“ دوسری صورت میں آپ حصول ملازمت کے چکروں میں ہی رہتے، یہ تو رب جانے کہ آپ کو jobجلد ازجلد میسر آجاتی یا ساری محنت ہی رائیگاں جاتی اور پھر کئی مہینوں اور سالوں کے بعد آپ کا اپنا کاروباربی۔ اے دہی بھلے، ایم۔ اے تکہ کباب یا کمپیوٹر برگر ہاؤس کی صورت میں منظر عام پر آ جاتا۔ واضح رہے کہ یہاں اس طرح کے کاروبار کی تضحیک کرنا میرا مقصود نہیں بلکہ حصول ملازمت کے لیے آمد و رفت پر خرچ کیے ہوئے روپے پیسے اور وقت کے ضیاع کے بعد ذاتی کاروبار کا خیال آنا اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ کہاں
دن میں خواب دیکھنے والا امیدوار برائے ”اعلیٰ ملازمت“ اور اب وہ کچھ نہ کچھ کام کر رہا ہے جو انہیں ملازمت کی تلاش کے ساتھ ساتھ ہی آغاز کر لینا چاہیے تھا۔حالانکہ قابلیت کے لحاظ سے ملازمتیں دینا حکومت کی پالیسیوں میں سب سے اہم پالیسی ہونی چاہئیے
مگر یہاں تو آوے کا آوا ہی بگڑاہوا ہے۔ اور نوجوان طبقہ بھی اس طرح کے حالات میں ایک اچھی نوکری کا سپنا اپنی آنکھوں میں سجائے حصول ملازمت کے لیے ٹامک ٹوئیاں مار رہے ہیں۔لکھاری خواتین و حضرات اس طرح کی مفید تحریریں قارئین کی نذر کرتے رہا کریں جس میں معاشرتی بھلائی کا عنصر موجود ہ۔ کیونکہ کسی کو اچھا مشورہ دینا بھی ثواب کا باعث بن جاتا ہے۔

Saturday, 6 March 2021

ڈیجیٹل مارکیٹنگ کی تعلیم

 ڈیجیٹل مارکیٹنگ کی تعلیم

ڈیجیٹل مارکیٹنگ ایسی تعلیم ہے، جو آپ کے کاروبار کو آف لائن اور آن لائن ترقی دیتی ہے۔ ڈیجیٹل مارکیٹنگ کے آنے کے بعد اب یہ ممکن ہو گیا ہے کہ آپ بڑی سرمایہ کاری کے بغیر بھی اپنی پراڈکٹ یا سروس کو برانڈ میں بدل سکتے ہیں، بلکہ اس کو بین الاقوامی سطح پر بھی لے جا سکتے ہیں۔ ڈیجیٹل مارکیٹنگ کو استعمال کرتے ہوئے، آپ اپنی ویب سائٹ پر زیادہ سے زیادہ ٹریفک لا سکتے ہیں۔ ویب ٹریفک سے مراد وہ انٹرنیٹ صارفین ہیں، جو آپ کی ویب سائیٹ پر کسی بھی ذریعے سے آتے ہیں۔ ڈیجیٹل مارکیٹنگ کو دو حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ ایک ہے اِن باؤنڈ ڈیجیٹل مارکیٹنگ، جب کہ دوسری ہے آؤٹ باؤنڈ ڈیجیٹل مارکیٹنگ۔
اِن باؤنڈ ڈیجیٹل مارکیٹنگ:
اس سے مراد وہ مارکیٹنگ ہے، جو آپ کے کاروبار کو پیڈ کمپین (وہ اشتہاری مہم جس کی آپ کو ادائیگی کرنا پڑتی ہے) یا اَن پیڈ کمپین یا آرگینک گروتھ (وہ کاروباری ترقی جو آپ خود اپنی محنت اور معیار کے بل بوتے پر یا سسٹم سے خود بخود حاصل کرتے ہیں) ذرائع سے ترقی دیتی ہے، جیسے فیس بک، یوٹیوب، گوگل سرچ وغیرہ۔ آپ فیس بک پر اپنے کاروبار کا صفحہ بنا کر، یا گروپ بنا کر، یا یوٹیوب پر ویڈیو چینل بنا کر، یا اپنی ویب سائٹ کا SEO کرا کر، اِن باؤنڈ ڈیجیٹل مارکیٹنگ کرتے ہیں۔ ایس ای او، ایس ای ایم، ایس ایم او/ ایس ایم ایم، پی پی سی، کنٹینٹ مارکیٹنگ، ایفیلیٹڈ مارکیٹنگ، کلاسیفائیڈ مارکیٹنگ، ای میل مارکیٹنگ، میسینجر مارکیٹنگ وغیرہ اِن باؤنڈ ڈیجیٹل مارکیٹنگ کی چند مثالیں ہیں۔
آؤٹ باؤنڈ ڈیجیٹل مارکیٹنگ:
آؤٹ باؤنڈ ڈیجیٹل مارکیٹنگ سے مراد وہ مارکیٹنگ ہے، جس میں آپ اپنے کاروبار کو بغیر انٹرنیٹ استعمال کئے ترقی دیتے ہیں، جیسے ٹی وی ایڈز وغیرہ۔ ایس ایم ایس، ایم ایم ایس، ٹی وی ایڈز اور ڈیجیٹل ہورڈنگز آؤٹ باؤنڈ ڈیجیٹل مارکیٹنگ کی چند مثالیں ہیں۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ اگر آپ اپنے کاروبار کو ایک برانڈ بنانا چاہتے ہیں تو ڈیجیٹل مارکیٹنگ کی سہولت سے استفادہ حاصل کریں۔ مارکیٹنگ کو آن لائن بزنس میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت حاصل ہے۔ آن لائن مارکیٹنگ کی ایک سو سے زیادہ اقسام ہیں۔ ان میں سے کچھ ایسی اقسام ہیں، جو رائج العام ہو چکی ہیں، جب کہ کچھ ابھی اپنے ابتدائی مراحل میں ہیں، جب کہ کچھ Niche مارکیٹنگ تک محدود ہیں۔ مارکیٹنگ کرنے والا، پراڈکٹیویٹی اور فری لانسنگ کرنے والوں سے زیادہ کماتا ہے۔ فائیور پر کام کرنے والے ہی دیکھ لیں، وہ اپنے ہزاروں ممبرز سے فی پروجیکٹ 20% وصول کرتے ہیں۔ اس سے بھی بڑی مثال گوگل اور فیس بک ہے۔ یہ روزانہ لاکھوں ڈالرز صرف مارکیٹنگ کی مد میں کماتے ہیں۔
ڈیجیٹل مارکیٹنگ کے شعبے میں درج ذیل شعبوں میں کام کرنے والے پروفیشنلز کی بہت ڈیمانڈ رہتی ہے:
• Search Engine Optimization)SEO)
• Search Engine Marketing) SEM)
• Social Media Marketing)SMM)
• Social Media Optimization) SMO)
• Affiliate Marketing
• Out Sourcing or Middle Man
Advertisement (Content, Videos, Banners)
• Email Marketing
& Mobile Marketing
• Branding/Online Personal Relations
مواد کی مارکیٹنگ:
جیسا کہ نام سے ظاہر ہوتا ہے، مواد مارکیٹنگ، گرافکس اور ویڈیوز بنانے کے ارد گرد گھومتی ہے، جس کے ذریعے صارفین کو اپنی طرف متوجہ کرنے، حوصلہ افزائی کرنے اور تبادلوں کےمقصد کے ساتھ مضامین تقسیم کے جاتے ہیں۔
ای میل کی مارکیٹنگ:
مارکیٹنگ ایجنسی کے پاس ای میل اکاؤنٹ رکھنے والے صارفین کی ایک طویل فہرست ہوتی ہے، جو بعض اوقات لاکھوں میں جاتی ہے۔ آپ متعلقہ مارکیٹنگ ایجنسی کو ہائر کرتے ہیں اور وہ آپ کا پیغام ان تمام ای میل اکاؤنٹ استعمال کرنے والے صارفین تک ایک بٹن کے کلک سے پہنچا دیتی ہے۔
سوشل میڈیا کے انتظام:
کاروبار کے لیے سوشل میڈیا کے پیجز کو چلانا بہت عام بات ہے۔ فیس بک، انسٹاگرام، یوٹیوب چینل، گوگل پلس، ٹوئٹر، لنکڈاِن، پنٹریسٹ، اسنیپ چیٹ، سوشل میڈیا کے تمام پلیٹ فارمز پر ایک بزنس کو اپ ڈیٹ رکھنا ایک مشکل کام بن جاتا ہے۔ ایسے میں کاروباری اداروں کو پروفیشنلز درکار ہوتے ہیں۔
ویب سائٹ ڈیزائن اور ترقی:
ظاہر ہے کاروبار کرنے والا ہر شخص اپنی ویب سائٹ خود نہیں بنا سکتا اور نہ ہی یہ اتنا آسان کام ہے، ماسوائے ان کے جو ویب سائٹ ڈیزائننگ کی تعلیم رکھتےہیں۔
فوٹو گرافی اور ویڈیو گرافی:
آن لائن اشیاء فروخت کرنے کے لیے ویڈیو گرافی اور فوٹو گرافی بہت ضروری ہے۔ آن لائن خریداری کرتے وقت صارف کو تصویر یا ویڈیو کے ذریعے یہ نظر آنا چاہیے کہ وہ کیا پراڈکٹ خرید رہا ہے۔ ڈیجیٹل مارکیٹنگ میں پروفیشنل فوٹو گرافر اور ویڈیو گرافر کا کردار اہم ہے۔ ڈیجیٹل مارکیٹنگ کے متذکرہ بالا جن جن شعبہ جات کی نشاندہی کی گئی ہے، ان میں سے ہر شعبہ میں تعلیم حاصل کی جا سکتی ہے۔ اس سلسلے میں پاکستان سمیت دنیا بھر میں کئی ادارے ڈیجیٹل مارکیٹنگ میں ڈپلومہ سے لے کر ماسٹرز ڈگری تک کی تعلیم دے رہے ہیں۔ اس کے علاوہ بین الاقوامی سطح پر ڈیجیٹل مارکیٹنگ میں کچھ ایسے آن لائن کورس بھی دستیاب ہیں، جو ناصرف بالکل مفت میں کروائے جاتے ہیں، بلکہ بین الاقوامی سطح پر ان کی افادیت بھی تسلیم شدہ ہے۔ ان میں گوگل آن لائن مارکیٹنگ چیلنج، ورڈ اسٹریم پی پی سی یونیورسٹی، سوشل میڈیا کوئیک اسٹارٹر ڈیجیٹل مارکیٹنگ کورس، اِن باؤنڈ ڈیجیٹل مارکیٹنگ کورس پلس آفیشل سرٹیفکیشن اور ایلیسن فری ڈپلومہ اِن ای بزنس شامل ہیں۔

(لیاقت علی جتوئی)



How to become rich overnight

in this blog i will tell you  The Illusion of Overnight Riches: A Realistic Guide to Wealth Creation In a world obsessed with instant gratif...