دنیا میں سٹارٹ اپ کیوں ناکام ہوتے ہیں ؟
یہ سوال میں نے چند دن پہلےکیا تھا
بہت سے دوستوں نے اپنی قیمتی راۓ سے نوازا
لیکن میں آج آپ کو اس کی حقیقت چند واقعات میں بتاتا ہوں
حاجی عبدالغفور صاحب کلے ہانڈی ریسٹورنٹ میں شیف ہیں
کوئ دس سال قبل نیویارک سے بفیلو آۓ تھے ، امریکہ آنے سے پہلے پاکستان میں کاروبار کرتے تھے لیکن یہاں آ کر نیویارک میں ایک ریسٹورنٹ میں ہیلپر کی حیثیت سے کام شروع کیا آہستہ آہستہ پہلے لائن کُک بنے پھر بیفیلو آگۓ محنتی آدمی تھے پھر شیف بن گۓ
جب کلے ہانڈی کھلا تو میرے پاس آ گۓ اور اس میں کوئ شک نہیں کہ کلے ہانڈی کی کامیابی میں حاجی کی انتہائ محنت اور پروفیشنلزم کا بہت بڑا ہاتھ ہے
ایک سال قبل حاجی صاحب نے ارادہ کیا کہ اپنا ریسٹورنٹ کھولا جاۓ انہوں نے ایک چلتا ریسٹورنٹ خریدا اور وہ ریسٹورنٹ حاجی صاحب نے چار مہینے بعد بند کر دیا
اب حاجی صاحب کے جانے کے بعدکلے ہانڈی پر ایک نوجوان لڑکا جو شیف نہیں تھا لیکن کھانا بنانا جانتا تھا اس نے کام شروع کر دیا اس نے محنت کی اور اور کچھ ہیلپر ز کے ساتھ اس نے کلے ہانڈی کی ساکھ گراۓ بغیر کلے ہانڈی کو بہترین طریقے سے چلایا
کرونا کے باعث جب نیو یارک میں لاک ڈاؤن ہوا تو وہاں کافی پاکستانی ریسٹورنٹ بند ہوۓ تو وہاں سے ایک شاہ صاحب جو کافی نامی گرامی شیف ہیں وہ بیفیلو آ گۓ اور انہوں نے پاکستان کے معروف کھانوں کے ذائقے سے کلے ہانڈی کو چار چاند لگا دیئے
اچانک ایک دن حاجی صاحب واپس آ گۓ اور دوبارہ کلے ہانڈی پر کام کی خواہش کا اظہار کیا تو حاجی صاحب دوبارہ سینیئر شیف کی پوزیشن پر واپس آ گۓ
اب یہاں ایک سوال پیش ہوتا ہے کہ حاجی صاحب اپنے ریسٹورنٹ پہ ناکام کیوں ہوۓ ؟ حالانکہ وہ بیفیلو میں سب سے بہترین پاکستانی شیف ہیں یہاں بہت زیادہ لوگ انہیں جانتے بھی ہیں
اس کی وجہ میں تو جانتا تھا لیکن پھر بھی اپنی تسلی کے لیئے بیفیلو یونیورسٹی کے بزنس ڈیپارٹمنٹ کے ایک پاکستانی پروفیسر سے میں نے یہی سوال کیا
تو وہ کہنے لگے کہ حاجی صاحب بہت بہترین شیف ہیں لیکن حاجی صاحب کے پاس اچھی ٹیم نہیں تھی
انہیں مارکیٹنگ ، سیلز اور مینجمنٹ کے لیئے اچھے لوگوں کی ضرورت تھی جو کہ ان کے پاس نہیں تھے اور یہی ان کی ناکامی کا سبب بنا کہ صرف ایک اچھا شیف ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ وہ ایک اچھا آرگنائزر بھی ہے یا ایک اچھا انٹریپنوئر بھی ہے
چنانچہ یہی بات ان کی ناکامی کا سبب بنی
اب آتے ہیں دوسری طرف
میں نے تقریباً 25 سال دنیا بھر میں بزنس کیا ہے دنیا کا شاید ہی کوئ ایسا نامی گرامی ریٹیل سٹور چین یا شاپنگ چینل ہو جہاں میری پراڈکٹس نہ بکتی ہوں
امریکہ میں وال مارٹ ، ہوم ڈپو ، کیو وی سی ، کینیڈا میں رونا ، وال مارٹ ، ہوم ڈپو روجر شاپنگ چینل
انگلینڈ میں بی اینڈ کیو ، آزدا ، ٹیسکو ، یورپ ، مڈل ایسٹ اور ساؤتھ اور سینٹرل امریکہ میں کیئر فور اور دیگر ہر معروف ریٹیل سٹورز میں میری پراڈکٹس ضرور ہوتی تھیں
لیکن حقیقت میں وہ میری پراڈکٹس نئیں بلکہ ان جینیئس لوگوں کی پراڈکٹس ہوتی تھیں جنہیں وہ ایجاد کرتے تھے
حقیقت میں مَیں سیلز اینڈ مارکیٹنگ کمپنی
Own
کرتا تھا
اب ایک جینیئس بندہ ایک پراڈکٹ تو ایجاد کر لیتا تھا لیکن اسے وہ بیچے کیسے ؟
کیا وہ ایک اچھا
marketers
بھی ہے یا تھا
کیا اسے علم ہے کہ وہ اس پراڈکٹ یاُاپنے
Prototype
کو کہاں سے سستی
Manufacturing
کروا سکتا ہے
کیسے اپنی پراڈکٹ کی برانڈنگ ، یا پیکنگ کروا سکتا ہے اور اسے کہاں اور کیسے مارکٹ یا سیل کر سکتا ہے ؟
آپ یقین کریں
ایک پراڈکٹ ایجاد کرنا
یا اسے بیچنا دو مختلف شعبے ہیں
آپ ایک جینیئس تو ہو سکتے ہیں
لیکن ضروری نہیں آپ ایک اچھے سیلز مین بھی ہوں
یا آپ ایک اچھے مینو فیکچرر یا ایک اچھی مینجمنٹ سکِلز کے مالک بھی ہوں
اب میری کمپنی پوری دنیا میں ایسے جینیئس لوگوں کو ڈھونڈتی تھی ان سے پروٹوٹائپ
لیتی تھی اس کا تین چار ریٹیل سٹورز کے بائرز سے
analysis
کرواتی تھی
ضرورت پڑنے پر ان کی ری شی پنگ
Reshaping
ہوتی تھی جب بائرز buyers
اسے پاس کرتے تو اس وقت اس پراڈکٹ کا پیٹنٹ Patent کروایا جاتا تھا کہ کوئ اس کی نقل نہ بنا سکے
پھر ان کے مینوفیکچرز ڈھونڈے جاتے اور یہ تلاش پوری دنیا میں ہوتی تھی بسا اوقات ایک پراڈکٹ کے کمپوننٹس
Components
کئ ممالک میں بنتے تھے اور پھر ایک جگہ ان کی اسمبلی ہوتی تھی
پھر اس کی برانڈنگ ، اس کی پیکجنگ ، اس کی ریٹیل قیمت فروخت کا تعین پھر اس کی ہول سیل پرائس ، پھر ٹریڈ شوز پر اس کا ڈسپلے پھر دنیا بھر کے ریٹیل سٹوروں کے
Buyers
کے ساتھ میٹنگز انہیں اعلی ریسٹورنٹس پر ڈنر
اس پراڈکٹ کے
SKU’s
تب جا کر ایک پراڈکٹ مارکیٹ میں آتی تھی
اب وہ جینیئس بندہ تو
Prototype
دے کر فارغ ہو گیا
اب میری کمپنی کا کام شروع ہوتا تھا کہ اسے شیلف تک کیسے پہنچایا جاۓ
اب ہم اس جینیئس آدمی سے ڈیل کرتے تھے کہ اسے سیل پر کمیشن یا اس کی اس پراڈکٹ پر رائیلٹی کتنی دینی ہے
اور یقین کریں کہ اس کو بسا اوقات اگر وہ پراڈکٹ مارکٹ میں کامیاب ہو جاتی تھی تو اس جینیئس آدمی کو اس کے رائیلٹی کی مد میں ملینز آف ڈالر ملتے تھے
جب تک وہ پراڈکٹ بکتی رہتی وہ دو یا تین پرسنٹ کی رائیلٹی کے ساتھ ملینئر بن جاتا تھا
میں نے ایسے کئ ملینئر ز ذاتی طور پر بناۓ ہیں
اس ساری تمہید کا مقصد آپ کو یہ آگاہی دینا ہے کہ آپ کوئ بھی سٹارٹ آپ شروع کریں
پہلے ایک ٹیم بنائیں
اس میں مارکٹنگ ، سیلز ، مینجمنٹ ، کے ایکسپرٹ شامل کریں
اگر آپ پروفیشنلز افورڈ نہیں کر سکتے تو یونیورسٹیوں کے مختلف ڈیپارٹمنٹ سے ان شعبوں کے طلباء کو اپنے ساتھ ملائیں
اپنی ٹارگٹ مارکٹ یا کسٹمرز تلاش کریں
اور پھر اپنا سٹارٹ آپ انتہائ محدود یا لیمیٹڈ بجٹ کے ساتھ شروع کریں
اک اکیلا بندہ چاہے کوئ کوئ کنونشنل پراڈکٹ ہو یا ٹیکنالوجی کا سافٹ ویئر ، سروسز کا سٹارٹ اپ ہو یا زراعت یا ایکسپورٹ
مویشی پالنے ہوں یا مینوفیکچرنگ یونٹ سے یا آپ نے ای کامرس کا سٹارٹ اپ شروع کرنا ہو
آپ کو سب سے پہلے ایک ٹیم بنانی ہو گی جو سیلز اور مارکٹ کے معاملات میں آپ کی مدد کرے
اور اسے محدود پیمانے پر خود اپنی ٹیم کے ساتھ شروع کریں
اس سٹارٹ اپ یا اس آئیڈیا کی کامیابی کی ہی صورت میں انوسٹر آپ پر بھروسہ کرے گا
یہ وہ کلیہ ہے جس پر دنیا بھر کے انوسٹر یا انوسٹمنٹ کمپنیاں عمل کرتی ہیں
صرف آئیڈیا یا ون مین شو پر کوئ بندہ آپ کے ساتھ انوسٹ کرنے میں ہچکچاہٹ کا شکار ہو گا
اور آپ کا آئیڈیا آہستہ آہستہ آپ کو داغ مفارقت دے جاۓ گا اور جاتے جاتے آپ کو مایوسیوں کے اندھیروں کے حوالے کر جاۓ گا

No comments:
Post a Comment