پاکستان میں ابھی بھی تیرہ فیصد مزید کاروباروں کی ضرورت ہے اس میں آن لائن یا آٹی ٹی سے متعلق کاروبار شامل نہیں ہیں
کاروانِ روزگار ( معاشی تبلیغی دورہ) ایک دن کا یا ایک سال کا فیصلہ نہیں ہے اس میں برسوں کی ریاضت اور تحقیق شامل ہے
جیسا کہ میں دوستوں کے ساتھ بزنس آئیڈیاز شیئر کر رہا ہوں تو جب مجھے منفی ریمارکس، ڈر، خوف ، نوکری چھوڑ کر کاروبار شروع کرنے میں تامل یا ہچکچاہٹ یا اور تحفظات اور سوالات کا سامنا کرنا پڑتا تھا تو یقینا بحیثیت ایک پروفیشنل کنسلٹنٹ جس نے خوش قسمتی سے انگلینڈ اور یوروپین یونین جیسے بڑے کاروباری ممالک کے ساتھ بحیثیت
Business Development
اور ایکسپورٹ پروموشن کے شعبوں میں کام کیا ہوا ہے
تو سب سے پہلے میں نے ایک روائتی طریقہ اپنایا کہ ایک طویل ریسرچ کے بعد جسمیں کئ ممالک کے دورے بھی شامل تھے اور ماہرین کی ٹیم بھی شامل تھی تو پاکستانی وفاقی اور صوبائ حکومتوں کو سفارشات مرتب کر کے بھیج دیں
لیکن وہ حسب توقع یا تو ردی کی نظر ہو گئیں یا کسی کونے میں رکھ دی گئیں
بیرون ملک رہنے والے پاکستانیوں کی اکثریت کو حکومتوں سے واسطہ نہیں ہوتا
ہمارے دلوں میں پاکستان یا وہ لوگ دھڑکتے ہیں جن کے ساتھ ہم نے اپنا بچپن گزارا ہوتا ہے یا جن کے ساتھ ہم گلیوں میں کھیلا کرتے تھے
جب بھی کبھی پاکستان کا چکر لگا تو بخدا پاکستان کو “اگلوں حالوں بی گیا “
ملک پایا
جبکہ میں نے ذاتی طور پر دنیا کی کئ ریاستوں کو ترقی کی معراج پر پہنچتے دیکھا
چنانچہ یہی تکلیف تھی کہ کیسے میرے اپنے لوگوں کا معیار زندگی بلند نہیں تو بہتر ضرور ہو
پہلے پاکستان میں لوگوں کو کھانا کھلانے کے لیئے فوڈ بینک کھولنے کا پروگرام بنا امریکہ میں این جی او بھی رجسٹر کروا لی
لیکن وہ میرے مزاج اور فطرت کے خلاف کام تھا
پھر سوچ سوچ کے کہ کوئ ایسا طریقہ کیا ہو جسمیں عوامی سطح پر کاروباری شعور اجاگر کیا جاۓ
اپنی قوم کے لوگوں کو مغرب میں رائج طریقوں سے کاروباری رموز سے آگاہ کیا جاۓ چنانچہ سوشل میڈیا کا سہارا لیا گیا
اوردوستوں اور فالورز کے مثبت رویے سے حوصلہ بڑھا کہ چنگاری موجود ہے اور منفی رجحانات سے تحقیق اور ریسرچ کی راہ ہموار ہوئ اور یہ نتیجہ اخذ کرنے اور اصل خرابی کی جڑ پکڑنے میں آسانی ہوئ کہ اس کا
اصل میں حل کیا ہے ؟
جب معاشی دورے کا پلان ذہن میں آیا تو اس کی جزئیات کو عملی شکل تک لانے میں قریبا ایک سال لگا اور ابھی جا کر جب یہ پریکٹیکلی لانچ کرنے کے قریب ہے تو اب اس سلسلے میں مجھے
آپ سب دوستوں کی انتہائ مدد درکار ہے
آپ یقین کریں کہ دنیا میں اپنی نوعیت کا پہلا پروگرام ہے جسمیں اپنے ملک اور ملک کے نوجوانوں سے خلوص دل سے محبت کرنے والی نامور کاروباری شخصیات ، زرعی اور آئ ٹی کے مانے ہوۓ ماہرین ، فنانس کے شعبے سے متعلق ، اینجل انوسٹرز ، ٹورزم کے شعبے کے مانے ہوۓ لوگ ، کارپوریٹ بزنس سے تعلق رکھنے والے لوگ ، صنعتی میدان کے شہسوار آپ کی دہلیز ہر آ کر نہ صرف آپ کی نۓ کاروبار کے سلسلے میں راہنمائ کریں گے بلکہ آپ کے ساتھ اس وقت تک ایک کنسلٹنٹ کی حیثیت سے آپ کی راہنمائ کرتے رہیں گے جب تک آپ کا کاروبار چل نہ نکلے کیونکہ میرا ذاتی طریقۂ کار یہی ہے
اور ہر دو مہینے بعد یہ دورہ ہوا کرے گا جسمیں ہم اسے تحصیل لیول تک لے کر آئیں گے
آپ ایک ایسا پروگرام شروع کرنے جا رہے ہیں کہ کل جس کی دوسرے ممالک تقلید کریں گے اور انشاءاللہ یہ کانسیپٹ یا ماڈل میڈ ان پاکستان
ہو گا
انشاءاللہ

No comments:
Post a Comment