میرا تعلق مڈل کلاس گھرانے سے ہے۔ رشتے دار، دوست یار، جاننے والے، غرض کے سب ہی مڈل کلاس فیملیوں سے تعلق رکھتے ہیں
ایک چیز جو میں نے مڈل کلاس گھرانوں کے حوالے سے سیکھی ہے وہ یہ ہے کہ ان گھرانوں کی سوچ میں فنانشل معاملات خاص کر کام کے حوالے سے بہت خوف موجود ہوتا ہے۔ یہ اپنی اگلی نسل میں اس خوف کو "حفاظت" کے نام پر منتقل کردیتے ہیں
ان فیملیوں میں اپنے بچوں کو رسک لینے سے خوب ڈرایا جاتا ہے۔ ناکامی سے ہر صورت بچنے تلقین کی جاتی ہے۔ کوئی نیا اور بھیڑ چال سے ہٹ کر قدم اٹھانے کو انتہائی غلط باور کرایا جاتا ہے
نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ مڈل کلاس گھرانوں کے بچے شروع سے ہی روٹین لائف میں خود کو قید کرلیتے ہیں۔ وہ اس سائیکل سے باہر نکلنے کی کبھی ہمت ہی نہیں کرتے اور مطمئن ہوکر لگی بندھی زندگی گزارنے کو ترجیح دیتے ہیں
مڈل کلاس گھرانوں میں پیسے کو بینک میں جمع کرنے اور صرف پراپرٹی جیسی محفوظ سرمایاکاری میں لگانے کا درس دیا جاتا ہے
اسکے برعکس، اپر کلاس میں اپنے بچوں کی تربیت مختلف انداز سے کی جاتی ہے۔ انھیں بچپن سے رسک لینا سکھایا جاتا ہے۔ کچھ نیا کرنے پر اکسایا جاتا ہے۔ نقصان کو پارٹ آف دا لائف بتایا جاتا ہے۔
یہاں پیسے کو جمع کرنے کی بجائے اسے ٹول کے طور پر استعمال کرنے کا درس دیا جاتا ہے۔ نت نئی انویسٹمنٹ کرنے کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے۔ یہ محفوظ نوکری کی بجائے، رسک والے پر تیزی سے ترقی کرنے والے کام کو ترجیح دیتے ہیں
آپ میں سے کچھ لوگ سوچیں گے کہ اپر کلاس کے پاس پیسہ موجود ہوتا ہے اسی وجہ سے وہ فنانشل معاملات میں aggressive ہوتے ہیں
یہ حقیقت ہے پر ہر کیس میں ایسا نہیں ہوتا۔ بہت سے لوگ مڈل تو کیا، لوئر مڈل کلاس سے تعلق رکھنے کے باوجود صرف اس لیے ترقی کرجاتے ہیں کہ ان کی فنانشل اپروچ بہت جارحانہ ہوتی ہے
مڈل کلاس گھرانوں کے لیے پیسہ، مصیبت کے وقت کام آنے والی چیز ہے۔ لہذا وہ ان دیکھی مصیبت کے انتظار میں پیسے کو بینکوں میں جمع کرتے رہتے زندگی گزار دیتے ہیں
امیر گھرانوں کے لیے پیسہ آگے بڑھنے اور نئے مواقع آزمانے کا ٹول ہے۔ لہذا وہ اس ٹول کا مسلسل استعمال کرتے رہتے اور آگے سے آگے بڑھتے چلے جاتے ہیں
یہی اپروچ کا بنیادی فرق ہے
اگر آپ بھی ترقی کرنا چاہتے ہیں تو آپ کو اپنی سوچ لازمی بدلنی ہوگی۔ بینکوں میں پیسے جمع کرکے آپ نقصان سے تو محفوظ رہ سکتے ہیں پر زندگی میں کبھی ایک خاص حد سے آگے نہیں بڑھ سکتے
ترقی کرنے کا ایک ہی رول ہے وہ ہے پیسے کو بطور ٹول استعمال کرنا اور چھوٹی چھوٹی رقموں سے نت نئے تجربات کرنا
اس حوالے سے کسی mentor کو ساتھ ملا لیجیے تو نقصان کا اندیشہ بہت کم ہوجائے گا
زندگی ایک بار ملتی ہے۔ اسے لگی بندھی ڈگر پر نہ گزاریے
بینکوں میں پیسہ جوڑنے سے بہتر ہے کہ اس سرمائے سے چھوٹے چھوٹے چانس لیتے رہئیے۔۔۔۔۔!!!!
نوٹ: یہ بہت تفصیل طلب موضوع ہے۔ ایک الگ سوچ ہے جس سے بہت سے دوست احباب یقیناً اختلاف کرنا چاہیں گے۔ آپ کے ایسے تمام اعتراضات اور سوالات کا پوسٹوں کی شکل میں وقتاً فوقتاً جواب دیتا رہوں گا
ایک بات کا ذکر کرتا چلوں۔ میری وال پر میں ایسا مشورہ میں کبھی نہیں دیتا جس پر کئی سالوں سے خود عمل پیرا نہ ہوں۔ یہاں اپنے تجربات کا نچوڑ ہی پیش کرتا ہوں
.
Copied from
Shahzad Hussain timeline
Thanks to Malik Saad Awan

No comments:
Post a Comment