Wednesday, 28 April 2021

Potato flakes business in Pakistan and other countries

  #خشک_آلوؤں_کا_چورا ( potato flakes )

پاکستان میں اوسطاً پچاس لاکھ ٹن آلو پیدا ہوتا ہے جبکہ ہمارا استعمال تیس لاکھ ٹن سالانہ کے قریب ہے. پچھلے سال ہم نے تقریباً چھ لاکھ ٹن آلو برآمد کیے. اس حساب سے اگلے سال کے بیج کو چھوڑ کر کوئی سات سے دس لاکھ ٹن آلو ہمارے پاس سالانہ وافر ہوتا ہے. جس کا بیشتر حصہ یقیناً ضائع ہوتا ہوگا. آلو کے موسم میں آلو کی اس بہتات کہ وجہ سے موسم میں اس کے منڈی میں نرخ دس روپے فی کلو تک چلے جاتے ہیں.
دوسری طرف آپ جان کر حیران ہوں گے کہ سال دوہزار انیس میں دنیا بھر میں چھ ارب ڈالر کا آلوؤں کا چورا بکا. آلوؤں کا چورا یعنی (potato flakes ) ہر اس کام کیلئے استعمال کیا جاتا ہے جس کیلئے تازہ آلوؤں کی پیسٹ استعمال ہوتی ہے. اس سے آلو کے کباب اور چپس تو بنائے ہی جاتے ہیں ساتھ ہی ہر قسم کے شوربہ کو گاڑھا کرنے کے لیے، دودھ اور مشروبات کو گاڑھا کرنے کے لیے، آئس کریم اور چاکلیٹ وغیرہ کی شکل اور ذائقہ بہتر کرنے کیلئے استعمال کیا جاتا ہے.
مزید حیرانی کی بات یہ ہے کہ بھارت میں سینکڑوں چھوٹی بڑی فیکٹریاں سالانہ لاکھوں ٹن خشک آلوؤں کا چورا بنا کر دنیا بھر کے ممالک کو برآمد کررہی ہیں. ستم بالائے ستم یہ کہ بھارت سے درآمدات پر پابندی سے پہلے پاکستانی تاجران بھی سینکڑوں ٹن سالانہ خشک آلوؤں کا چورا سالانہ بھارت سے منگواتے رہے. ( دستاویزات تصاویر میں). جبکہ دوسری طرف وطن عزیز کے ننانوے فیصد لوگ آلوؤں کی اس بیش قدر مصنوعہ کے نام سے بھی واقف نہیں. جبکہ لاکھوں ٹن آلو سالانہ ضائع ہورہے ہیں.
آلو میں اوسطاً پچہتر فیصد نمی ہوتی ہے. یوں اگر آلوؤں کو خشک کیا جائے تو چار کلوگرام آلو سے ایک کلو آلو کے فلیکس بنائے جاسکتے ہیں. سیزن میں انکی تھوک کی قیمت دس روپے کلو گرام ہوتی ہے. گویا چالیس روپے کے خام مال سے ایک کلو چورا تیار ہوجائے گا. اگر ساٹھ روپے فی کلوگرام بھی خرچ آئے (جو کہ ہر صورت اس سے کم آئے گا). تو بھی سو فیصد منافع پر برآمد کیا جاسکتا ہے. کیونکہ عالمی منڈی میں اس کی قیمت ایک اعشاریہ تین ڈالر سے ایک اعشاریہ پانچ ڈالر تک ہوتی ہے. گویا کم ازکم دوسو بیس روپے فی کلوگرام.
یوں تو اس کے درمیانے سائز کے پلانٹ پانچ سے آٹھ ٹن روزانہ استعداد کے ہوتے ہیں. جن کی لاگت دس کروڑ سے بیس کروڑ تک ہوتی ہے. اور اوسطاً پچیس فیصد ریٹ آو ریٹرن پر چلتے ہیں. مگر میرے خیال میں اسے بہت آرام سے گھریلو صنعت کے طور پر بھی اپنایا جاسکتا ہے.
آلو سے چورا بنانا انتہائی آسان عمل ہے. انہیں چھیل کاٹ کر ابال لیں. اچھی طرح ابلے آلوؤں کو پیس کر پیسٹ بنالیں. اس پیسٹ کو فیکٹریوں میں تو سٹین لیس سٹیل کے گھومتے ہوئے رولز پر کہ جن کے اندر سے بھاپ گذاری جارہی ہوتی ہے، چپکا کر خشک کیا جاتا ہے. انہیں potato drum dryers کہتے ہیں. یہ چھوٹے پیمانے پر بھی بنائے جاسکتے ہیں. لیکن اس پیسٹ کو ڈی ہائیڈریٹر کی ٹرے پر باریک تہہ کی صورت میں لگا کر خشک کرنے سے بھی چورا حاصل کیا جاسکتا ہے. پہلے اس سے باریک پاپڑ نما چیز بنے گی جسے تھوڑا سا پیسنے پر چورا بن جائے گا. گھر میں خواتین فارغ وقت میں دس بیس کلو چورا روزانہ بنا سکتی ہیں. جس سے انکو ہزار سے دوہزار کی فالتو آمدنی ہونے کی توقع ہے.
اسی طرح کچھ کسان مل کرکم سرمایہ سے چار پانچ سو کلو روزانہ کے یونٹ لگا سکتے ہیں. آلو برآمدگان خشک آلو کے چورے کے بھی آرڈر پکڑیں. اور ان چھوٹی فیکٹریوں سے معیاری مال لیکر باہر بھجوائیں. جو تاجران باہر سے منگوا کر پاکستانی ہوٹلوں اور فوڈ کمپنیوں کو سپلائی کررہے تھے وہ بھی مقامی لوگوں سے مال خریدیں. یقین کریں دو چار سال میں اربوں روپے کی نئی صنعت کھڑی ہوجائے گی جس سے ہزاروں لوگوں کو باعزت روزگار ملے گا.. انشاءاللہ.



 یہ کہانی کرونا وائرس ختم ہونے کے بعد کی ہے

پڑھ اب لیں عمل بعد میں کریں
کاروباری اداروں میں ایسا مقابلہ، جس میں دو یا اس سے زیادہ ادارے بیک وقت ایک ہی ہدف کو حاصل کرنے کی کوشش کریں۔ عمدہ معیار، بہترین خدمات اور رعایتی قیمتوں کی پیشکش کرکے اپنی فروخت بڑھانا یا نفع میں اضافہ کرنا۔ جس مقام پر مارکیٹ آزادانہ طور پر کام کرے، وہاں مقابلہ (competition) کے ذریعے ہی رسد اور طلب (supply and demand)میں توازن پیدا کیا جاسکتا ہے۔
کاروباری مقابلہ یابزنس کمپٹیشن نہ صرف ایک جائز صورت بلکہ اپنے کاروبار نیز ملکی معیشت کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے ناگزیر ہوتا ہے۔ اس کے اصول و ضوابط کو جان کر آدمی درست انداز میں مارکیٹ کا مقابلہ کرنے کے قابل ہوتا ہے۔ سب سے بہتر بزنس کمپٹیشن وہ ہے جو جھوٹ، فریب، دھوکے، دو نمبری، ملاوٹ اور بالخصوص حسد سے مکمل پاک ہو۔ اگر آپ اس کمپٹیشن کا حصہ بننے جا رہے ہیں تو یہ درج ذیل تفصیل کو ضرور پیش نظر رکھیے۔ آپ ایک کامیاب کمپیٹیٹر ثابت ہوں گے۔
صلاحیتوں اور کمزوریوں کی جانچ پڑتال کو جدول کی ترتیب دینا زیادہ بہتر ہے ٭
آپ کے چھوٹے پیمانے کے کاروبار کی کامیابی کے لیے یہ ضروری ہے کہ آپ کو اپنے کاروباری حریفوں کے بارے میں اتنی زیادہ معلومات ہوں جتنی کہ آپ اپنی ذاتی کمپنی اور گاہکوں کے بارے میں رکھتے ہیں۔ بدقسمتی سے چھوٹے پیمانے کے کاروبار کے بہت سے مالکان اس وقت تک یہ زحمت نہیں فرماتے جب تک ایک حریف ان کے سامنے ایک دکان کھول کر ان کے منافع میں کمی نہیں کر دیتا۔
کاروباری مقابلے کے تجزیے سے آپ کو پتا چلتا ہے کہ آپ کے حریف کون کون ہیں اور ان کی کمزوریاں اور خوبیاں کیا ہیں۔ اپنے حریفوں کے اقدامات جاننے سے آپ کو اس بات کا بہتر اندازہ ہو گا کہ آپ کو کن چیزوں اور خدمات کی پیشکش کرنی چاہیے۔ آپ ان چیزوں کو کس طرح بہتر طریقے سے مارکیٹ میں پیش کر سکتے ہیں اور کیسے آپ اپنے کاروباری مقام کا تعین کر سکتے ہیں۔
کاروباری مقابلے کا تجزیہ ایک مسلسل عمل ہے۔ آپ کو اپنے حریفوں کے متعلق معلومات ہمیشہ اکٹھے کرتے رہنا چاہیے۔ ان کی ویب سائٹس دیکھیں۔ ان کی پروڈکٹس کا تحریری مواد اور پمفلٹ پڑھیں۔ ان کی چیزوں استعمال کر کے دیکھیں۔ یہ دیکھیں کہ وہ تجارتی میلوں میں اپنے آپ کو کیسے دکھاتے ہیں۔ اپنی صنعت کی تجارتی مطبوعات میں ان کے بارے میں پڑھیں۔ اپنے گاہکوں سے مسابقانہ چیزوں اور خدمات کے بارے میں بات چیت کریں اور ان کی رائے لیں۔ بزنس کمپیٹیشن کی طرف بڑھتے ہوئے اول قدم پر آپ کو یہ چار کام کرنا ہوں گے:
1 اپنے مقابلے کی شناخت کریں
2 خوبیاں اور خامیاں جانیں
3 مواقع اور خطرات کے بارے میں جانیں
4 اپنی پوزیشن کا اندازہ لگائیں
ہر کاروبار کے حریف ہوتے ہیں اور آپ کو یہ جاننے کے لیے وقت صرف کرنا ہو گا کہ جن ضروریات کو آپ کی پروڈکٹ یا سروس پورا کرتی ہے، اسی طرح کی پروڈکٹ یا سروس کے لیے آپ کے گاہک کس کے پاس پہنچیں گے۔ بلکہ اگر آپ کی پروڈکٹ یا سروس واقعی جدت طراز ہے تو بھی آپ کو یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ آپ کے گاہک اس کام کو پورا کرنے کے لیے کیا کچھ خریدیں گے۔ مثلاً: اگر آپ کا کاروبار آن لائن ہے اور آپ ای بکس فروخت کرتے ہیں تو آپ اپنے سرچنگ کے عمل کو مسلسل جاری رکھتے ہوئے اپنے ہم پیشہ لوگوں کے طریق کار کا تنقیدی جائزہ لیں۔ اسی طرح مارکیٹ کا مفصل سروے کریں۔اس عرق ریزی کی نتیجے میں آپ کے علم میں آئے گاکہ آپ کے کاروباری حریف تین طرح کے ہیں:
ایک وہ جو براہ راست آپ کے حریف ہیں۔ دوم جو ثانوی یا بالواسطہ ہیں۔ تیسرے جو متوقع حریف ہیں۔ اس کے بعد آپ کے پروڈکٹس یا سروسز کا تجزیہ کرنا شروع کریں گے۔آپ یہ تجزیے اپنے بنیادی حریفوں سے شروع کریں۔ یہ مارکیٹ کی رہنمائی کرنے والے لوگ ہیں۔ یہ وہ کمپنیاں ہیں جو اس وقت آپ کی مارکیٹ پر چھائی ہوئی ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جن سے نئے کسٹمرز تلاش کرتے وقت آپ کا رابطہ ہوتا ہے۔ اگر آپ پھول بیچنے والے ہیں تو پھر آس پاس کوئی دوسرا گل فروش بھی ہوگا۔ اگر آپ کمپیوٹر کے مشیر ہیں تو پھر ایسے ہی دوسرے مشیران بھی موجود ہوں گے۔ اگلے مرحلے میں اپنے ثانوی اور بالواسطہ حریفوں کی تلاش کریں۔ یہ وہ کاروبار ہیں جن کا آپ کے ساتھ بلاواسطہ مقابلہ نہیں ہے لیکن وہ بھی اسی عام مارکیٹ کو نشانہ بنا رہے ہیں جس کو آپ نشانہ بنا رہے ہیں۔ اگر ہم گل فروش کی مثال کو آگے بڑھائیں تو ثانوی حریفوں میں گلاب کے پھولوں کا چھوٹا مقامی اسٹور ہو سکتا ہے یا پھولوں کی فراہمی کی ایک قومی سروس ہو سکتی ہے یا آپ کی مقامی سپر مارکیٹ اور ڈسکاؤنٹ اسٹور کا پھولوں اور پودوں کا شعبہ بھی ہو سکتا ہے۔ اس کے بعد آپ اپنے متوقع حریفوں کو دیکھیں۔ یہ وہ کمپنیاں ہیں جو آپ کی مارکیٹ میں داخل ہو سکتی ہیں اور جن کا مقابلہ کرنے کے لیے آپ کو تیاری کی ضرورت ہے۔ مثال کے طور پر آپ منجمد دہی کی دکان چلا رہے ہیں تو آپ کو منجمد دہی کی قومی فرنچائزز کا مقابلہ کرنے کے لیے تیاری کی ضرورت ہے۔ اگرچہ ابھی تک وہ آپ کی مارکیٹ میں نہیں پہنچی ہیں۔
جب آپ نے اپنے حریفوں کو جان لیا ہے تو یہ جانیں کہ ان کی صلاحیتیں کیا کیا ہیں؟ نیز تلاش کریں کہ ان کی کمزوریاں کیا کیا ہیں؟ لوگ ان سے کیوں خریدتے ہیں؟ قیمت کی وجہ سے؟ کوالٹی کی وجہ سے؟ سروس کی وجہ سے؟ سہولت کی وجہ سے؟ شہرت کی وجہ سے؟ اپنے حریفوں کی ان تخیلاتی صلاحیتوں اور کمزوریوں پر بھی اتنی ہی توجہ دیں جتنی توجہ آپ ان کی اصل صلاحیتوں اور کمزوریوں پر دیتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ گاہک کی ان اشیا کے متعلق سوچ، ان اشیا کی حقیقت سے زیادہ اہم ہے۔
صلاحیتوں اور کمزوریوں کی جانچ پڑتال کو جدول کی ترتیب دینا زیادہ بہتر ہے۔ اپنے ہر حریف کا نام لکھیں۔ پھر اپنے کاروبار کے ہر پہلو کے لیے کالم بنانا شروع کریں۔ مثال کے طور پر قیمت، کوالٹی، سروس، جگہ، شہرت، تجربہ، سہولت، افراد، اشتہارات، مارکیٹنگ یا پھر وہ سب کچھ جو آپ کی کمپنی کے لیے مناسب ہے۔ جب آپ یہ ٹیبل بنا لیں تو اپنے حریفوں کی درجہ بندی کریں اور اس درجہ بندی کے بارے میں اپنی رائے بھی دیں۔ آپ صلاحیتوں کو سرخ اور کمزوریوں کو نیلے رنگ میں لکھ سکتے ہیں تاکہ آپ ایک نظر ڈال کر ہی یہ بتا سکیں کہ ہر حریف کی کیا صورتحال ہے۔ ٭…کامیابی کے مواقع اور خطرات سے متعلق جاننا:
صلاحیتیں اور کمزوریاں اکثر ایسی چیزیں ہیں جو کمپنی کے کنٹرول میں ہوتی ہیں لیکن جب آپ اپنے کاروباری مقابلے کا جائزہ لے رہے ہوں تو پھر آپ کو یہ بھی جاننے کی ضرورت ہو گی کہ انہوں نے اپنے دائرہ اختیار سے باہر کی چیزوں کو سنبھالنے کے لیے اپنے آپ کو کتنے اچھے طریقے سے تیار کیا ہے۔ ان کو کاروباری مواقع اور خطرات کہا جاتا ہے۔ کاروباری مواقع اور کمزوریوں کی کافی اقسام ہیں۔ ان اقسام میں ٹیکنالوجی میں ترقی، قانونی یا پھر آئینی اقدامات، معاشی عوامل یا پھر کوئی ممکنہ نیا حریف وغیرہ شامل ہیں۔ مثال کے طور پر ایک کمپنی جو ویب پر اشیا بیچتی ہے اس کو یہ جانچنا چاہیے کہ اس کے حریفوں نے آن لائن سکیورٹی کے مسائل سے نمٹنے کے لیے کتنی تیاری کی ہے۔ ایسا کرنے کا ایک موثر طریقہ یہ ہے کہ ایک ٹیبل بنایا جائے جس میں آپ کے حریفوں اور بیرونی عوامل جو کہ آپ کے ادارے پر اثرانداز ہوں گے، کے بارے میں معلومات ہوں۔ پھر آپ یہ بتانے کے قابل ہوں گے کہ آپ کے حریف کاروباری مواقع اور خطرات سے کیسے نمٹتے ہیں۔
خود احتسابی:
جب ایک دفعہ آپ یہ جان لیں کہ آپ کے حریف کی صلاحیتیں اور کمزوریاں کیا ہیں تو آپ کو یہ جاننے کی ضرورت ہو گی کہ اس کاروباری مقابلے میں آپ نے اپنے حریفوں کے ساتھ کس کس جگہ پر مقابلہ کرنا ہے۔ ان میں سے کچھ نکات آپ کے تجزیے کے نتیجے سے واضح ہو سکتے ہیں لیکن آپ کو یہ بھی پتا ہونا چاہیے کہ آپ کا کاروبار مقابلہ کیسے کرے گا۔ ایسا کرنے کا سب سے موثر طریقہ یہ ہے کہ آپ اپنے کاروبار کی صلاحیتوں، کمزوریوں اور کامیابی کے مواقع اور متعلقہ خطرات کا تجزیہ کریں۔ اپنی کمپنی کی اسی طرح درجہ بندی کریں جس طرح آپ نے اپنے حریفوں کی درجہ بندی کی تھی۔ اس سے آپ کو زیادہ واضح تصویر ملے گی کہ اس کاروباری مقابلے میں آپ کا کاروبار کس جگہ کھڑا ہے۔ اس سے آپ کو یہ جاننے میں بھی مدد ملے گی کہ کون کون سے شعبوں میں آپ کو محنت کرنے کی ضرورت ہے اور زیادہ گاہک بنانے کے لیے آپ کو کاروبار کی کون کون سی خصوصیات سے فائدہ حاصل کرنا چاہیے۔
کاروباری رقابت یابزنس کمپٹیشن اپنی ذات میں ہرگز برا نہیں۔ بلکہ معاشی ترقی اور اقتصادی خوشحالی کے لیے یہ ایک ضروری چیز ہے۔ تا ہم اس میں حسد اور ناروا باتوں سے بچتے ہوئے شرکت کرنی چاہیے۔ اس مقصد کے لیے درج بالا اصول و ضوابط کا سہارا لیا جائے تو بغیر غلطی اور نقصان کے بہتری کا سفر جاری رہتا ہے۔ سو، آپ سب سے پہلے تو اپنے کاروباری حریف کی شناخت کیجیے۔ پھر اس کی خوبیوں اور خامیوں کا تجزیہ کیجیے۔ اس کے بعد خطرات اور کامیابی کے مواقع پہچاننے کی کوشش کیجیے۔ ان تین مراحل کے بعد آپ اپنی حیثیت و صلاحیت کا بغور جائزہ لیجیے۔ اس طرح آپ ایک اچھے کاورباری حریف ثابت ہو کر اپنے کاروبار کو چار چاند لگائی

blue economy of World نیلی معیشت

 نیلی معیشت

بلیو اکانومی تازہ ٹرم ہے، یہ معاشی اصطلاح 2006 میں متعارف کرائی گئی اور 2010 میں اس پر کام شروع ہوا
سمندر کے ساتھ ساحل پر قدرتی ماحول کو برقرار اور محفوظ رکھتے ہوئے معاشی ذرائع تلاش کرنا اور ساحلی کمیونٹیز کو اس میں شامل کرکے ان کی معاشی حالت کو بہتر بنانا یہی بلیو اکانومی کے جز ہیں
دنیا بھر میں ساحلی اقوام معیشت کا اہم ستون سمجھی جاتی ہیں، اس میں بحری راستوں سے سفری اور تجارتی سرگرمیاں، بندرگاہیں، ماہی گیری، بحری تحقیق، توانائی کے منصوبے، صنعتیں، واٹر اسپورٹس اور ساحلوں کے پرکشش سیاحتی مقامات نیلی معیشت کا اہم جز ہیں
دنیا میں نیلی معیشت نے ساحلی اقوام کے معیار زندگی کو بلند کرنےمیں اہم کردار ادا کیا ہے، پاکستان میں بھی ایک ہزار کلومیٹر سے زائد ساحلی پٹی خوبصورت مقامات، پہاڑی سلسلوں اور قدرتی بندرگاہوں سے بھری ہوئی ہے
سندھ اور بلوچستان کی ساحلی پٹی قدرتی حسن سے مالا مال ہے، سندھ میں 280 کلومیٹر اور بلوچستان میں تقریبا 800 کلومیٹر کا طویل ساحل خوبصورت مقامات اور نیلے پانیوں کا حسن رکھتا ہے۔۔ سندھ میں شہر کراچی ملک کی سب بڑی قدرتی بندرگاہ اور پرکشش ساحل رکھتا ہے۔ پورٹ قاسم سے ٹھٹہ، بدین اور کیٹی بندر تک سمندری سلسلہ کئی سیاحتی مقامات رکھتا ہے
کراچی کے ساحل کلفٹن ، سی ویو اور دو دریا پر کچھ توجہ ضرور دی گئی ہے لیکن دیگر ساحلی مقامات پر ترقی دینے کے لیے کام نظر نہیں آتا، ماضی میں کئی سرکاری منصوبے بنائے گئے لیکن وہ صرف کاغذوں تک ہی محدود رہے۔
کراچی جیسے میگا سٹی میں پرکشش ساحل کے سیاحتی مقامات نیلی معیشت کا اہم جز ہیں لیکن اسے جدید خطوط پر استوار کرنے کا معاملہ اب تک فوکس نہیں کیا گیا۔ ہاکس، پیراڈائزپوائنٹ، سینڈزپٹ، فرنچ بیچ، منوڑہ ، جزیرہ چرنا، بڈو، بنڈل، مبارک ولیج اورسونمیانی کے خوبصورت ساحل ترقی کے منتظر ہیں۔ انفراسٹرکچر کوبہتر بنانے کے لیے پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے اصولوں کو شفاف طریقے سے عمل درآمد کرانا ہوگا۔
کراچی سے نکل کر حب بلوچستان سے شروع کریں تو گڈانی کا خوبصورت ساحل صرف جہازوں کو توڑنے کی صنعت کے علاوہ کوئی سیاحتی حیثیت حاصل نہیں کرپا رہا۔ اس ساحلی مقام پر توجہ کرکے سیاحت کو فروغ اور مقامی آبادیوں کو بہترین روزگار دیا جاسکتا ہے۔
کراچی سے مغرب میں 236 کلومیٹر بلوچستان کا ایک اور خوبصورت ساحلی مقام " کنڈ ملیر " سیاحوں کے لیے انتہائی کشش رکھتا ہے، پہاڑی سلسلے سے جڑے اس نیلے پانی کے ساحل کو کوئی نظر انداز نہیں کر سکتا، پہاڑ کے دامن میں کھڑی کشتیاں ساحل پر آنے والوں کو مکمل تفریح بھی فراہم کرتی ہیں۔
کراچی سے 190 کلومیٹر سے شروع ہونے والا پاکستان کا سب سے بڑا قدرتی وسائل سے بھرپور ہنگول نیشنل پارک بھی توجہ کا مرکز ہے۔ کل 6100 اسکوائر کلومیٹر پر پھیلا یہ پارک میدانی، ساحلی اور پہاڑی سلسلے پر مشتمل خوبصورت مناظر سے بھرپور ہے۔
ملیر کنڈ سے آگے کئی خوبصورت پہاڑ اور خوبصورتی ساحلی مناظر سیاحوں کی کشش کا باعث ہیں۔ پرنسز آف ہوپ اور طلسماتی خیالات کو تقویت دینے والے پہاڑی سلسلے کے ساتھ اورماڑہ کا خوبصورت ساحل بہترین سیاحتی مقامات ہیں، اورماڑہ اور ملیر کنڈ کا فاصلہ تقریبا 180کلومیٹر ہے۔
ضلع گوادر کی تحصیل پسنی ساحل کے کنارے ایک چھوٹا سا پرکشش شہر آباد ہے، کراچی سے 450 کلومیٹر دور ماہی گیروں کا شہر پسنی اپنے خوبصورت پرکشش ساحلوں اور نایاب آبی حیات کے لیے مشہور ہے معروف جزیرہ استولا بھی پسنی میں واقع ہے جسے محفوظ علاقہ قرار دیا گیا ہے۔
مکران کوسٹل ہائی وے پر چلتے چلتے کئی پرکشش ساحلی مقامات سے ہوتے ہوئے ہم گیم چینجر پاکستان کا اہم جغرافیائی شہر اور بلوچستان کے ضلع گوادر تک پہنچتے ہیں، دنیا کی بہترین قدرتی بندرگاہ گوادر کے کنارے آباد اس شہر کو جدید خطوط پر استوار کیا جارہا ہے۔
نیلے پانی کا یہ خوبصورت ساحل طلوع اور غروب آفتاب کے وقت دلفریب منظر پیش کرتا ہے۔ ایک مؤثر حکمت عملی کے تحت گوادر کا ماسٹر پلان تیار کیا گیا ہے۔ گوادر کے مشرقی اور مغربی حصے کو ماسٹرپلان میں بہتر طور پر تقسیم کیا گیا ہے جہاں بندرگاہ، سامان کی ترسیل اور صنعتوں سے متعلق سرگرمیوں کے لیے زمین مختص کی گئی ہے جبکہ رہائش اور سیر و سیاحت اور تفریحی مقامات کی جدید خطوط پر تعمیر کے لیے بھی زمین مختص کی گئی ہے۔
جیوانی تک اس پرکشش ساحلی پٹی کو بہتر بنانے کی منصوبہ بندی بھی کی جا رہی ہے، نیلی معیشت سے استفادہ کرنے کے لیے پاکستان کے بحری حدود سے بین الاقوامی تجارت اور اس سے جڑے ایشیا کو جانے والے زمینی راستوں جدید خطوط پر استواراور محفوظ کیا جا رہا ہے، یہ بات اہم ہے کہ نیلی معیشت سے ساحلی اقوام یعنی مقامی آبادیوں کو سب سے بہتر معاشی وسائل دستیاب ہوتے ہیں
مستقبل کے معماروں کو یہ بتانا ہوگاکہ چھپے ہوئے مواقع موجود ہیں جس پر کام کیا جاسکتا ہے اور بچوں کی حوصلہ افزائی کی جاسکتی ہے کہ وہ اپنی معاشی بہتری کے لیے قدم بڑھائیں، اس معاملے میں وژن آپ کے تحقیقی اور تعلیمی اداروں اور میڈیا کے کام سے ہی آئے گا



جو طریقہ کسی اور کی کامیابی کی وجہ بنا

 شیر اور شارک دونوں پیشہ ور شکاری ہیں لیکن شیر سمندر میں شکار نہیں کرسکتا اور شارک خشکی پر شکار نہیں کر سکتی۔ شیر کو سمندر میں شکار نہ کر پانے کیوجہ سے ناکارہ نہیں کہا جا سکتا اور شارک کو جنگل میں شکار نہ کر پانے کیوجہ سے ناکارہ نہیں کہا جا سکتا۔ دونوں کی اپنی اپنی حدود ہیں جہاں وہ بہترین ہیں۔

اگر گلاب کی خوشبو ٹماٹر سے اچھی ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ اسے کھانا تیار کرنے میں بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔
ایک کا موازنہ دوسرے کے ساتھ نہ کریں۔
آپ کی اپنی ایک طاقت ہے اسے تلاش کریں اور اس کے مطابق خود کو تیار کریں۔
کہتے ہیں ہر وہ جاندار جو آج دنیا میں موجود ہے حضرت نوح کی کشتی میں موجود تھا جس میں گھونگا بھی شامل ہے۔
اگر خُدا ایک گھونگے کا نوحؑ کی کشتی تک پہنچنے کا انتظار کر سکتا ہے تو وہ خُدا آپ مجھ پر بھی اپنے فضل کا دروازہ اُس وقت تک بند نہیں کرے گا جب تک کہ آپ زندگی میں اپنے متوقع مقام تک نہیں پہنچ جاتے۔
کبھی خود کو حقارت کی نظر سے نہ دیکھیں بلکہ ہمیشہ خود سے اچھی اُمیدیں وابستہ رکھیں۔
یاد رکھیں ٹوٹا ہوا رنگین قلم بھی رنگ بھرنے کے قابل ہوتا ہے۔
اپنے اختتام تک پہنچنے سے پہلے خود کو بہتر کاموں کے استعمال میں لے آئیں۔
وقت کا بدترین استعمال اسے خود کا دوسروں کے ساتھ موازنہ کرنے میں ضائع کرنا ہے
مویشی گھاس کھانے سے موٹے تازے ہو جاتے ہیں جبکہ یہی گھاس اگر درندے کھانے لگ جائیں تو وہ اسکی وجہ سے مر سکتے ہیں۔
کبھی بھی اپنا موازنہ دوسروں کے ساتھ نہ کریں اپنی دوڑ اپنی رفتار سے مکمل کریں
جو طریقہ کسی اور کی کامیابی کی وجہ بنا۔ ضروری نہیں کہ آپ کیلئے بھی سازگر ہو
خُدا کے عطاء کردہ تحفوں نعمتوں اور صلاحیتوں پر نظر رکھیں اور اُن تحفوں سے حسد کرنے سے باز رہیں جو خُدا نے دوسروں کو دیے ہیں۔

how to get oxygen when oxygen is short in the market

 ہر سال کرہ ارض سے کروڑوں حاجی اور زائرین حج اور عمرہ کے لیئے سعودی عرب جاتے ہیں اور وہاں سے بیمار ہو کر واپس آتے ہیں

اگر آپ سرخ نمک pink salt کے دانوں کی تسبیح بنا کر اسے مارکٹ Market کریں تو صرف اس کے سونگھنے سے وہ Refine Oxygen
حاصل کر سکتے ہیں اور وہاں کی انسانی ہجومُ ، کثافتوں اور Pollution سے پیدا شدہ بیماریوں سے محفوظ رہتے ہوۓ صحت مند واپس گھروں کو لوٹ سکتے ہیں
اس پر بھی تحقیق ہونی چاہیے
پنجابی کی مشہور کہاوت
“نالے حج تے نالے وپار ( بیوپار) “
A great


دنیا میں سٹارٹ اپ کیوں ناکام ہوتے ہیں ؟

 دنیا میں سٹارٹ اپ کیوں ناکام ہوتے ہیں ؟

یہ سوال میں نے چند دن پہلےکیا تھا
بہت سے دوستوں نے اپنی قیمتی راۓ سے نوازا
لیکن میں آج آپ کو اس کی حقیقت چند واقعات میں بتاتا ہوں
حاجی عبدالغفور صاحب کلے ہانڈی ریسٹورنٹ میں شیف ہیں
کوئ دس سال قبل نیویارک سے بفیلو آۓ تھے ، امریکہ آنے سے پہلے پاکستان میں کاروبار کرتے تھے لیکن یہاں آ کر نیویارک میں ایک ریسٹورنٹ میں ہیلپر کی حیثیت سے کام شروع کیا آہستہ آہستہ پہلے لائن کُک بنے پھر بیفیلو آگۓ محنتی آدمی تھے پھر شیف بن گۓ
جب کلے ہانڈی کھلا تو میرے پاس آ گۓ اور اس میں کوئ شک نہیں کہ کلے ہانڈی کی کامیابی میں حاجی کی انتہائ محنت اور پروفیشنلزم کا بہت بڑا ہاتھ ہے
ایک سال قبل حاجی صاحب نے ارادہ کیا کہ اپنا ریسٹورنٹ کھولا جاۓ انہوں نے ایک چلتا ریسٹورنٹ خریدا اور وہ ریسٹورنٹ حاجی صاحب نے چار مہینے بعد بند کر دیا
اب حاجی صاحب کے جانے کے بعدکلے ہانڈی پر ایک نوجوان لڑکا جو شیف نہیں تھا لیکن کھانا بنانا جانتا تھا اس نے کام شروع کر دیا اس نے محنت کی اور اور کچھ ہیلپر ز کے ساتھ اس نے کلے ہانڈی کی ساکھ گراۓ بغیر کلے ہانڈی کو بہترین طریقے سے چلایا
کرونا کے باعث جب نیو یارک میں لاک ڈاؤن ہوا تو وہاں کافی پاکستانی ریسٹورنٹ بند ہوۓ تو وہاں سے ایک شاہ صاحب جو کافی نامی گرامی شیف ہیں وہ بیفیلو آ گۓ اور انہوں نے پاکستان کے معروف کھانوں کے ذائقے سے کلے ہانڈی کو چار چاند لگا دیئے
اچانک ایک دن حاجی صاحب واپس آ گۓ اور دوبارہ کلے ہانڈی پر کام کی خواہش کا اظہار کیا تو حاجی صاحب دوبارہ سینیئر شیف کی پوزیشن پر واپس آ گۓ
اب یہاں ایک سوال پیش ہوتا ہے کہ حاجی صاحب اپنے ریسٹورنٹ پہ ناکام کیوں ہوۓ ؟ حالانکہ وہ بیفیلو میں سب سے بہترین پاکستانی شیف ہیں یہاں بہت زیادہ لوگ انہیں جانتے بھی ہیں
اس کی وجہ میں تو جانتا تھا لیکن پھر بھی اپنی تسلی کے لیئے بیفیلو یونیورسٹی کے بزنس ڈیپارٹمنٹ کے ایک پاکستانی پروفیسر سے میں نے یہی سوال کیا
تو وہ کہنے لگے کہ حاجی صاحب بہت بہترین شیف ہیں لیکن حاجی صاحب کے پاس اچھی ٹیم نہیں تھی
انہیں مارکیٹنگ ، سیلز اور مینجمنٹ کے لیئے اچھے لوگوں کی ضرورت تھی جو کہ ان کے پاس نہیں تھے اور یہی ان کی ناکامی کا سبب بنا کہ صرف ایک اچھا شیف ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ وہ ایک اچھا آرگنائزر بھی ہے یا ایک اچھا انٹریپنوئر بھی ہے
چنانچہ یہی بات ان کی ناکامی کا سبب بنی
اب آتے ہیں دوسری طرف
میں نے تقریباً 25 سال دنیا بھر میں بزنس کیا ہے دنیا کا شاید ہی کوئ ایسا نامی گرامی ریٹیل سٹور چین یا شاپنگ چینل ہو جہاں میری پراڈکٹس نہ بکتی ہوں
امریکہ میں وال مارٹ ، ہوم ڈپو ، کیو وی سی ، کینیڈا میں رونا ، وال مارٹ ، ہوم ڈپو روجر شاپنگ چینل
انگلینڈ میں بی اینڈ کیو ، آزدا ، ٹیسکو ، یورپ ، مڈل ایسٹ اور ساؤتھ اور سینٹرل امریکہ میں کیئر فور اور دیگر ہر معروف ریٹیل سٹورز میں میری پراڈکٹس ضرور ہوتی تھیں
لیکن حقیقت میں وہ میری پراڈکٹس نئیں بلکہ ان جینیئس لوگوں کی پراڈکٹس ہوتی تھیں جنہیں وہ ایجاد کرتے تھے
حقیقت میں مَیں سیلز اینڈ مارکیٹنگ کمپنی
Own
کرتا تھا
اب ایک جینیئس بندہ ایک پراڈکٹ تو ایجاد کر لیتا تھا لیکن اسے وہ بیچے کیسے ؟
کیا وہ ایک اچھا
marketers
بھی ہے یا تھا
کیا اسے علم ہے کہ وہ اس پراڈکٹ یاُاپنے
Prototype
کو کہاں سے سستی
Manufacturing
کروا سکتا ہے
کیسے اپنی پراڈکٹ کی برانڈنگ ، یا پیکنگ کروا سکتا ہے اور اسے کہاں اور کیسے مارکٹ یا سیل کر سکتا ہے ؟
آپ یقین کریں
ایک پراڈکٹ ایجاد کرنا
یا اسے بیچنا دو مختلف شعبے ہیں
آپ ایک جینیئس تو ہو سکتے ہیں
لیکن ضروری نہیں آپ ایک اچھے سیلز مین بھی ہوں
یا آپ ایک اچھے مینو فیکچرر یا ایک اچھی مینجمنٹ سکِلز کے مالک بھی ہوں
اب میری کمپنی پوری دنیا میں ایسے جینیئس لوگوں کو ڈھونڈتی تھی ان سے پروٹوٹائپ
لیتی تھی اس کا تین چار ریٹیل سٹورز کے بائرز سے
analysis
کرواتی تھی
ضرورت پڑنے پر ان کی ری شی پنگ
Reshaping
ہوتی تھی جب بائرز buyers
اسے پاس کرتے تو اس وقت اس پراڈکٹ کا پیٹنٹ Patent کروایا جاتا تھا کہ کوئ اس کی نقل نہ بنا سکے
پھر ان کے مینوفیکچرز ڈھونڈے جاتے اور یہ تلاش پوری دنیا میں ہوتی تھی بسا اوقات ایک پراڈکٹ کے کمپوننٹس
Components
کئ ممالک میں بنتے تھے اور پھر ایک جگہ ان کی اسمبلی ہوتی تھی
پھر اس کی برانڈنگ ، اس کی پیکجنگ ، اس کی ریٹیل قیمت فروخت کا تعین پھر اس کی ہول سیل پرائس ، پھر ٹریڈ شوز پر اس کا ڈسپلے پھر دنیا بھر کے ریٹیل سٹوروں کے
Buyers
کے ساتھ میٹنگز انہیں اعلی ریسٹورنٹس پر ڈنر
اس پراڈکٹ کے
SKU’s
تب جا کر ایک پراڈکٹ مارکیٹ میں آتی تھی
اب وہ جینیئس بندہ تو
Prototype
دے کر فارغ ہو گیا
اب میری کمپنی کا کام شروع ہوتا تھا کہ اسے شیلف تک کیسے پہنچایا جاۓ
اب ہم اس جینیئس آدمی سے ڈیل کرتے تھے کہ اسے سیل پر کمیشن یا اس کی اس پراڈکٹ پر رائیلٹی کتنی دینی ہے
اور یقین کریں کہ اس کو بسا اوقات اگر وہ پراڈکٹ مارکٹ میں کامیاب ہو جاتی تھی تو اس جینیئس آدمی کو اس کے رائیلٹی کی مد میں ملینز آف ڈالر ملتے تھے
جب تک وہ پراڈکٹ بکتی رہتی وہ دو یا تین پرسنٹ کی رائیلٹی کے ساتھ ملینئر بن جاتا تھا
میں نے ایسے کئ ملینئر ز ذاتی طور پر بناۓ ہیں
اس ساری تمہید کا مقصد آپ کو یہ آگاہی دینا ہے کہ آپ کوئ بھی سٹارٹ آپ شروع کریں
پہلے ایک ٹیم بنائیں
اس میں مارکٹنگ ، سیلز ، مینجمنٹ ، کے ایکسپرٹ شامل کریں
اگر آپ پروفیشنلز افورڈ نہیں کر سکتے تو یونیورسٹیوں کے مختلف ڈیپارٹمنٹ سے ان شعبوں کے طلباء کو اپنے ساتھ ملائیں
اپنی ٹارگٹ مارکٹ یا کسٹمرز تلاش کریں
اور پھر اپنا سٹارٹ آپ انتہائ محدود یا لیمیٹڈ بجٹ کے ساتھ شروع کریں
اک اکیلا بندہ چاہے کوئ کوئ کنونشنل پراڈکٹ ہو یا ٹیکنالوجی کا سافٹ ویئر ، سروسز کا سٹارٹ اپ ہو یا زراعت یا ایکسپورٹ
مویشی پالنے ہوں یا مینوفیکچرنگ یونٹ سے یا آپ نے ای کامرس کا سٹارٹ اپ شروع کرنا ہو
آپ کو سب سے پہلے ایک ٹیم بنانی ہو گی جو سیلز اور مارکٹ کے معاملات میں آپ کی مدد کرے
اور اسے محدود پیمانے پر خود اپنی ٹیم کے ساتھ شروع کریں
اس سٹارٹ اپ یا اس آئیڈیا کی کامیابی کی ہی صورت میں انوسٹر آپ پر بھروسہ کرے گا
یہ وہ کلیہ ہے جس پر دنیا بھر کے انوسٹر یا انوسٹمنٹ کمپنیاں عمل کرتی ہیں
صرف آئیڈیا یا ون مین شو پر کوئ بندہ آپ کے ساتھ انوسٹ کرنے میں ہچکچاہٹ کا شکار ہو گا
اور آپ کا آئیڈیا آہستہ آہستہ آپ کو داغ مفارقت دے جاۓ گا اور جاتے جاتے آپ کو مایوسیوں کے اندھیروں کے حوالے کر جاۓ گا





آکسیجن کی قلت کا فوری حل

  آکسیجن کی قلت کا فوری حل

ایکٹیوٹڈ چارکول سے تو سبھی واقف ہیں نا. آپ اس کا فیشیل ماسک لگاتے ہیں اور یہ چہرے کی جلد میں موجود نقصان دہ مادوں اور جراثیم کو کھینچ کر اپنے اندر جذب کر لیتا ہے. اسی طرح پانی کے فلٹر میں ایکٹیوٹڈ چارکول پانی میں موجود کیمیائی کثافتوں کو اچک کر اپنے اندر جذب کرلیتا ہے. اور ہمیں مصفا پانی پینے کیلئے دستیاب ہوتا ہے.
بنیادی طور چارکول میں بے انتہا چھوٹے چھوٹے بیشمار سوراخ ہوتے ہیں جن میں ان کثافتوں کے مالیکیول ایک طرح سے قید ہوجاتے ہیں. کیمیا کی زبان میں اس عمل. کو عمل انجذاب یا adsorption کہتے ہیں. یہ عمل انجذاب یا جذب سطحی صرف ایکٹیوٹڈ چارکول ہی نہیں کرتا بلکہ اور بھی سینکڑوں کیمیائی مرکبات مختلف کیمیائی مادوں کے لیے انجذاب کیلئے جانے جاتے ہیں.
ان سینکڑوں مادوں میں سے ایک زیولائٹ zeolite کہلاتا ہے. شروع میں زیولائٹ قدرتی طور پر پایا جانے والے پتھروں کی قسم کو کہا جاتا تھا جو انہی اجزاء یعنی سیلیکا اور ایلومینا سے بنے ہوتے ہیں جن سے چکنی مٹی بنی ہوتی ہے. بس فرق یہ ہوتا ہے کہ ان میں قدرتی طور بالکل ایکٹیوٹڈ کاربن کی طرح بے شمار، انتہائی باریک سوراخ پائے جاتے ہیں. وقت کے ساتھ ساتھ اس قدرتی زیولائٹ کے بہت سے صنعتی استعمال اور فوائد آشکار ہوتے گئے.
یہاں تک کہ اس کی افادیت اور طلب کو دیکھتے ہوئے سائنسدانوں نے مصنوعی طور اس کی ڈھائی سو سے زائد مختلف اقسام تیار کرلی ہیں جن سب کے علیحدہ علیحدہ استعمالات ہیں. ان اقسام میں ایک قسم زیولائٹ 13x Hp آکسیجن بنانے کیلئے استعمال ہوتی ہے.
جیسا کہ ہم. جانتے ہیں ہوا میں قریب بیس فیصد آکسیجن اور باقی نائٹروجن اور دیگر گیسیں ہوتی ہیں. اگر ہم لوہے کے کسی ڈرم میں زیولائٹ 13x Hp بھر کر اس میں ہوا کو گذاریں تو یہ زیولائٹ 13x Hp ہوا میں موجود تقریباً تمام نائٹروجن اور کاربن ڈائی آکسائیڈ کو اپنے اندر جذب کرلیتا ہے، نتیجتاً ڈرم کے دوسری طرف ترانوے سے ستانوے فیصد تک خالص آکسیجن گیس حاصل ہوتی ہے. جسے صنعتی استعمال کے ساتھ ساتھ طب کی دنیا میں سانس کی بحالی کیلئے بے خوف وخطر استعمال کیا جاسکتا ہے.
اس مشین کو جو زیولائٹ کو استعمال کرتے ہوئے آکسیجن ہوا سے علیحدہ کرتی ہے آکسیجن جنریٹر یا آکسیجن کنسنٹریٹر کہتے ہیں. آکسیجن جنریٹر جیسا کہ تصویر میں دکھایا گیا ہے، دو لوہے کے بڑے کالمز اور ایک گیس ذخیرہ کرنے والے ٹینک پر مشتمل ایک سادہ سی مشین ہوتی ہے جس میں ایک ہوا بنانے والا کمپریسر اور چند دیگر برقی آلات لگے ہوتے ہیں.
جب مشین کو چلایا جاتا ہے توہوا کا کمپریسر ستر سے سو پی ایس آئی پر ہوا بنانا شروع کرتا ہے. جسے ایک زیولائٹ 13x Hp کے کالم میں سے گذار کر گیس ذخیرہ کرنے والے ٹینک میں جمع کیا جاتا ہے. جیسے ایک کالم میں سے ہوا گذرتی رہتی ہے اس میں نائٹروجن کی مقدار کا ذخیرہ بڑھتا جاتا ہے. اور تقریباً نو منٹ کے بعد اس میں مزید نائٹروجن جمع کرنے کی گنجائش ختم ہونے کے قریب پہنچ جاتی ہے.
اس مرحلہ پر خود کار طریقے سے ہوا کا کنکشن دوسرے کالم سے جڑ جاتا ہے. اور بالکل تازہ زیولائٹ 13x Hp نائٹروجن جذب کرنا شروع کردیتا ہے. اس دوران پہلے والے کالم کا ایگزاسٹ والو کھول دیا جاتا ہے، جیسے ہی اس کالم میں ہوا جا دباؤ فضا کے برابر ہوتا محض تئیس سے تیس سیکنڈ میں ساری نائٹروجن زیولائٹ کے سوراخوں میں سے نکل کر فضا میں شامل. ہوجاتی ہے. اور اس طرح یہ نظام چلتا رہتا ہے تاوقتیکہ آکسیجن ذخیرہ کرنے والا ٹینک مطلوبہ دباؤ تک بھر نہیں جاتا.
کسی بھی مریض عام طور پر کو دس سے پندرہ لیٹر فی منٹ آکسیجن درکار ہوتی ہے. پندرہ لیٹر فی منٹ آکسیجن کے لیے صرف تین کلوگرام زیولائٹ چاہیے ہوتا ہے. یعنی دو کالمز میں کل چھ کلو گرام. زیولائٹ 13x Hp کی ایف او بی آج کی قیمت 6.5 ڈالر فی کلوگرام ہے گویا ایک ہزار روپے فی کلو. یہاں پہنچ کر پندرہ سو روپے فی کلوگرام پڑے گا. (فی الحال یہ چین سے منگوایا جائے گا بعدازاں یونیورسٹی کے طلباء کو اس کی تیاری پر لگایا جائے گا تاکہ آنے والے دنوں میں اس کی پیداوار بھی ملک میں ہی ہو سکے.)
. پندرہ لیٹر فی منٹ آکسیجن جنریٹر کے لیے مچھلیوں کے ایکیوریم میں لگائے جانے والے ائیر پمپ سے ذرا سا بڑا پمپ چاہیے ہوگا. اور چھ کلوگرام زیولائٹ. میرے اندازے کے مطابق ایک ذرا سا ذہین فرج کا مکینک فرج کے استعمال شدہ کمپریسر کی مدد سے پچیس سے تیس ہزار روپے میں ایک آکسیجن جنریٹر تیار کرسکتا ہے. بشرطیکہ اسے زیولائٹ 13x Hp مہیا کردی جائے. اسی طرح پچاس سے مریضوں کے آکسیجن جنریٹر بھی انتہائی کم. قیمت میں بناکر ہسپتالوں میں لگائے جاسکتے ہیں. یہ آکسیجن جنریٹرز، ہسپتال انتظامیہ کو،تھوڑی سی مینٹینس کی قیمت کے عوض سلنڈروں کی نقل وحرکت اور مہنگی آکسیجن سے ہمیشہ کیلئے بے نیاز کرسکتے ہیں.
آکسیجن جنریٹر کی افادیت صرف وبا کے دنوں میں ہی نہیں بلکہ. آنے والے دنوں میں سموگ اور فضائی آلودگی سے بچاؤ کے لیے بھی گھروں میں پڑے گی، پھر زیادہ استعداد کے جنریٹرز کا صنعتی استعمال تو ہمیشہ ہی رہے گا. اس لیے اس کی پیداوار کو بطور کاروبار اختیار کرنے کا یہ نادر ترین موقع ہے. بنیادی راہنمائی ہم نے کر دی باقی آپ کا ہمت اور کوشش.
بشکریہ
ابنِ فاضل صاحب
امریکہ میں مینوفیکچرنگ کمپنی کی ڈیٹیل کمنٹس باکس میں چیک کریں







We are recruiting office based interns for Kids Fashion Designer Intern for Karachi Office.


 We are recruiting office based interns for Kids Fashion Designer Intern for Karachi Office. If you are a passionate individual willing to learn and get professional exposure then this opportunity is waiting for you.

Duration - 4-6 weeks (could lead to a permanent job)
Job Specification
Sampling
Pattern making
Paper Making
Drawing
Sketching
Knowledge of fabrics.
Must have a portfolio.
Designed Required with experience of paper making, pattern making and getting sampling done and approved. .
Ability to innovate and create.
Analyzing latest trends in Fashion designs, colors, and styles
Experienced in Girls or Women Fashion Designing.
Good expertise with Adobe Illustrator and any relevant computer skills for fabric digital prints
Send your resume at operations@babynestboutique.com
Package: 10-15K
Location: Mehran Town
Gender Preference: Female

Junior Marketing Executive - (Online/Digital marketing)

 Junior Marketing Executive - (Online/Digital marketing)

· Planning and execution of marketing projects and campaigns
· Manage and maintain the company's owned media including websites & social media pages
· Creating and executing marketing campaigns
· Creating analytical reports & driving insights & optimizing campaigns
Additional Skills
· Required (Must Have) skills:
· Must be able to think creatively about innovative approaches.
· Should be comfortable writing and communicating effectively.
· Willingness to work in a team as well as independently
· Analytical mind-set and critical thinking
· Hands-on MS Excel skill is a must
· Desired (Good to have) skills:
· Excellent communication and interpersonal skills
· Good research skills with good time-management
Send your resume at operations@babynestboutique.com
Package: 30-50K
Location: Mehran Town
Gender Preference: Both



Tuesday, 20 April 2021

چکوال : تیریاں کیا باتاں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ چکوال دیاں ریوڑیاں تے

 چکوال : تیریاں کیا باتاں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

چکوال دیاں ریوڑیاں
تے
1. ایشیا کا سب سے اونچا پل موضع سمبل کے قریب چکوال میں ہے.
2. ایشیا کا سب سے بڑا قصبہ موضع لا وہ چکوال میں ہے۔
3. موضع جند چکوال کے صوبیدار خالق نے انٹرنیشنل گیمز میں 4 دفعہ سونے کا تمغہ جیتا 1954 منیلا میں 1957 ایران میں 1958 ہانگ کانگ میں اور 1960 میں ایران میں اور 1956 میں بھارت کے وزیر اعظم جواہر لعل نہرو نے انہیں اڑن عجوبہ کا خطاب دی
4. موضع فرید چکوال کے صوبیدار محمد اقبال نے انٹر یشنل گیمز میں 5 دفعہ سونے کا تمغہ حاصل
5. موضع سمبل چکوال کے ملک اللہ داد جیولین تھرو میں 12 گولڈ میڈل حاصل کئے
6
1965
کی پاک بھآرت جنگ میں چیف آف ائر سٹاف ٹمن چکوال کے ائر مارشل نور خان کو مقرر کیا گیا
7. جنگ عظیم اول میں پہلا وکٹوریا کراس موضع ڈب کےصوبیدار خدا داد خان کو دیا گیا
8. برطانوی شاہی فوج میں کمیشن حاصل کرنے والے پہلے آفیسر جنرل محمداکبر رنگروٹ چکوال سے تھے
9.
چکوال کے ۶ سگے بھائ جنرل کے عہدوں تک پہنچے
جب چکوال کے جنرل محمد اکبر رنگروٹ کی والدہ کا انتقال ہوا تو برطانوی اخبار نے سرخی لگائ
Mother of 6 Generals died
10. دنیا کی تاریخ میں واحد میاں بیوی جو دونوں جنرل موضع بھلو مار کےجنرل اسد محمود ملک اور جنرل شاہدہ ملک تھے
11. پاکستان کے پہلے افسر جنہں قائد اعظم نے ترقی دے کر جنرل بنایا چکوال کے جنرل ۔محمد اکبر رنگروٹ تھے۔
12. موضع بھلہ چکوال کے غازی مرید حسین نے 1937 میں گستاخ رسول ڈاکٹر رام گوپال کو جہنم واصل کیا ۔ تلہ گنگ چکوال کے غازی میاں محمد نے 1938 میں گستاخ رسول چرن داس کو واصل جہنم کیا چکوال کےغازی عبدلعزیز نے گستاخ رسول ہندو اسسٹنٹ کمشنر کو واصل جہنم کیا
13. سیاہ چین گلیشئر کا ہیرو موضع دلیل پور چکوال کے بریگیڈئر رشید احمد ملک
14. چکوال کے ائر ماشل نور خان پاکستان کی واحد شخصیت ہیں جنہیں ہلال جرآت اول ہلال شجاعت کے اعزازات اکٹھے دئے گئے
15. ایشیا کا سب سے اعلی نسل کا گلاب چوآ سیدن شاہ میں پایا جاتا ہے




تحریک لبیک کے قائدین کے نام

 تحریک لبیک کے قائدین کے نام

گستاخانہ خاکے جہاں بھی شائع ہوں وہ قابل مذمت ہیں ۔ ان کے خلاف پر امن احتجاج کرنا مسلمانوں کا بنیادی حق اور غیرت ایمانی کا تقاضہ ہے۔ لیکن کیا پاکستان سے فرانس کے سفیر کو نکالنے کا مطالبہ کرنے والے ہمارے محترم دوست یہ نہیں جانتے کہ فرانس میں 40 لاکھ سے ذائد مسلمان رہائش پذیر ہیں اور وہاں 2300 سے ذائد مساجد قائم ہیں ۔ اگر فرانس ان مسلمانوں کو خدانخواستہ نکال دیتا ہے تو کونسا ملک ان کو اپنے ہاں بسانے کے لئے تیار ہوگا ؟؟ اگر مسلمانوں کو نہیں بھی نکالا جاتا اور صرف ان مساجد کو ہی بند کردیا جاتا ہے تو یہ لاکھوں مسلمان کیا کریں گے؟ ان کے آئندہ نسلوں میں دین کا تحفظ کیسے ہوگا ؟ کیا آپ کو یاد ہے کہ شام میں خانہ جنگی کے بعد اکثر مسلمان ممالک نے اپنے بارڈر بند کر دیے تھے اور لاکھوں کی تعداد میں ان مہاجرین کو پورپ کے مخلتف ممالک نے پناہ دی ہوئی ہے جن میں جرمنی اور فرانس سر فہرست ہیں ۔
احتجاج ضرور کریں لیکن عالمی سفارتی معاملات کس طرح طے ہوتے ہیں یہ الگ فلیڈ ہے ۔ دنیا میں اس وقت سب سے بڑی مفادات کی جنگ امریکہ اور چین کے درمیان ہے لیکن اس جنگ کے باجود ان کے سفارتی و تجارتی تعلقات قائم ہیں. دہائیوں تک روس اور امریکہ میں جاری رہنے والی سرد جنگ کے دوران بھی دونوں ممالک میں ایک دو سرے کے سفیر موجود رہے ۔ حضور بنی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے مدنی دور میں کفار مکہ کے ساتھ بھی سفارتی تعلقات مکمل منقطع نہیں فرمائے۔ خلفائے راشدین کے دور میں ایران اور روم کے ساتھ جنگیں بھی ہوتی رہیں مگر سفارتی و تجارتی تعلقات منقطع نہیں ہوئے۔ صالح الدین ایوبی جیسی جری مجاہد نے بھی بیت المقدس پر حملہ آور صلیبیوں کے ساتھ مذاکرت کا دروازہ بند نہیں کیا اور بالآخر ان سے امن معائدہ کیا۔ ریاستی سطح پر سفارتی تعلقات منقطع کرنے کو جیسے آپ سمجھ رہے ہیں یہ اس طرح کا معاملہ نہیں ۔ فرانس یورپین یونین کا حصہ ہے اس سے تعلقات کے خاتمہ کا مطلب پوری ہورہیں یونین کے 30 ممالک سے قطع تعلق کرنا ہے ۔ اس سارے اقدام سے ان پر کوئی ایسا اثر نہیں پڑے گا کہ وہ آئندہ کوئی قبیح حرکت نہیں کریں گے البتہ آپ کے اپنے ملک کی ڈوبتی معیشت کا دیوالیہ نکل جائے گا اور یہ ملک بھی اللہ نہ کرے شام لیبیا اور عراق کی طرح خانہ جنگی کی نذر ہو جائے گا۔ لہذا ریاست کا کام ریاست کو کرنے دیں ۔ موجودہ وزیر اعظم نے اقوام متحدہ سمیت عالمی فورمز پر جس موثر انداز میں مسلمانوں کے جذبات کی ترجمانی کی ہے وہ اپنی مثال آپ ہے ۔ اس سے پہلے پاکستان یا دنیا کے کسی حکمران نے اتنے موثر انداز میں آواز بلند نہیں ۔ وہ او آئی سی کی سطح پر بھی مسلمان ممالک کو ملکر اس مسئلہ پر متفقہ کردار ادا کرنے کے لئے قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔ آپ کے نرے جذبات پر مبنی احتجاج اور تشدد کے نتیجے میں اگر ان کی حکومت کمزور ہوتی ہے تو آپ کیا سمجھتے ہیں کہ آپ ملک کے سربراہ بن جائیں گے۔ ابھی حال ہی میں ڈسکہ میں آپ نے دیکھ لیا کہ جیتنے والا امید وار ایک لاکھ سے ذائد اور دوسرے نمبر والے 90 ہزار سے ذائد ووٹ لے رہا ہے جبکہ آپ کے امیدوار کو 6 ہزار ووٹ پڑ رہے ہیں ۔ احتجاج کے ذریعے چند روڈ بند کر دینا اور بات ہے ۔ ملک بھر سے لوگوں کا جمع کر کے احتجاج و مارچ کر لینا دوسرا معاملہ ہے اور پورے ملک سے انتخابات میں کامیابی حاصل کر کے حکومت قائم کرنا چیز دیگر است۔ تو عمران خان کی حکومت کمزور ہوتی یا ٹوٹتی ہے تو پھر ملک پر مسلط ہونے کے لئے مریم نواز اور بلاول بھٹو تیار بیٹھے ہیں ۔ آپ کا کا کیا خیال ہے کہ ان کی حکومت بن جاتی ہے تو وہ فرانس کے سفیر کو ملک سے نکال دیں گے یا ناموس رسالت کا معاملہ عالمی سطح پر عمران خان سے ذیادہ موثر انداز میں اٹھا سکیں گے ؟ موجودہ حکومت آپ کو space دینے کے لئے تیار ہے وہ آپ سے دو دفعہ مذاکرات کر چکی ہے آئیندہ بھی مذاکرات کے ذریعے بات چیت کرنے کے لئے تیار ہے ۔ اس موقع سے فائدہ اٹھائیں ۔ اہلسنت کی اس وقت کوئی سیاسی نمائندہ جماعت موجود نہیں ۔ آپ سیاست میں یہ خلا پر کر سکتے ہیں بشرطیکہ آپ ریاست سے ٹکراو کا راستہ اختیار کئے بغیر پر امن انداز میں اپنے مشن کو آگے بڑھائیں ۔ تشدد توڑ پھوڑ جلاو گھیراو کبھی اہل سنت کا معمول رہا ہے کہ یہ ان کی پہچان ہے ۔ تاریخ میں ہمارے اکابر ایسے معمول رکھنے والوں کو خوارج کے زمرے میں شمار کرتے رہے ہیں یا یہ کام باطنی فرقہ کا معمول رہا ہے ۔ اہلسنت کے دامن کو داغدار کر کے 1400 سو سالہ تاریخ پر دھبہ کا باعث نہ بنیں ۔ مذاکرات اور پر امن راستے کو اپنائیں ۔ اسی میں اسلام کی عزت ہے اسی میں ملک و قوم کی بہتری اور اسی میں آپ کو بہتر مستقبل
ڈاکٹر رحیق احمد عباسی
Like
Comment
Share

How to become rich overnight

in this blog i will tell you  The Illusion of Overnight Riches: A Realistic Guide to Wealth Creation In a world obsessed with instant gratif...