Wednesday, 28 April 2021

business ideas for students

 منافع بخش کاروبار

(کم سرمایہ سے شروع کیے جانے والے منافع بخش، اہم اور آسان کاروبار)
☕ کافی سینٹر:🍵
سیاحتی اور کاروباری مقام پرآپ اپنا ایک خوبصورت کافی سینٹر بناسکتے ہیں.جہاں پر آپ بہترین ذائقے کی چائے اور کافی ایک اچھے اور خوبصورت ماحول میں منفرد انداز میں پیش کریں.
جو صفائی معیار اور آداب سے بھرپور ہو.
🍲 بریانی سینٹر:🍝
آپ اپنا ایک خوبصورت بریانی شاپ بناسکتے ہیں.بریانی بنانا اور بیچنا بہت آسان ہے اور اس کی مانگ بہت زیادہ ہے آپ کسی سیاحتی اور کاروباری جگہ پر مناسب ریٹ اور صاف ماحول میں اسے پیش کر سکتے ہیں.
🍔 برگر و سوپ:🥣
آپ ایک خوبصورت برگر و سوپ پوائنٹ بنا سکتے ہیں.اپنے قریب کے کسی اسکول،کالج،یونیورسٹی،ھسپتال وغیرہ کے پاس مناسب قیمت صاف ماحول منفرد آداب اور اخلاق سے پیش کر سکتے ہیں اس کی مانگ بہت ہے.
✈ سیاحتی کمپنی:🚂
آپ سیاحت کا خوبصورت سیٹ اپ بنا سکتے ہیں.جس میں آپ آن لائن بکنگ کر کے کشمیر اور شمالی علاقہ جات سمیت پورے پاکستان میں لوگوں کو سیاحتی پیکیج فراہم کر سکتے ہیں.
🥦 کاشتکاری:🌽
آپ چھوٹے رقبے پر سبزیاں اگا سکتے ہیں.جن میں آلو پیاز بھنڈی ٹماٹر کدو لہسن وغیرہ چھوٹے پیمانے پر اگا کر اسے بہترین پیکنگ اور صفائی کے ساتھ سستے ریٹ میں فروخت کر سکتے ہیں.
📚 لائبریری:📖
آپ کو مطالعے سے لگاؤ ہے اور ادبی حلقوں سے راہ رسم ہے تو آپ ایک خوبصورت چھوٹی لائبریری بنا سکتے ہیں.آپ مختلف تعارفی اور بیداری کے پروگرامز کر کے اس کی advertising کرسکتے ہیں.
📱 موبائل شاپ: 📲
موجودہ دور میں ہر شخص موبائل استعمال کرتا ہے اور نئے نئے برانڈز آ رہے ہیں تو آپ اپنا سستا موبائل ریپرنگ لیب بنا سکتے ہیں.جہاں پر آپ دیانت سے سستے داموں بہترین کوالٹی کی ریپرنگ فراہم کر سکتے ہیں.اس کے ساتھ آپ پرانے موبائل لیپ ٹاپ اور کمپیوٹر فروخت کر سکتے ہیں.
🦆 جانور پالنا:🐃
آپ بکریاں، پرندے اور خرگوش وغیرہ پال سکتے ہیں.یہ بہت نفع جانور ہیں آپ اعلی نسل کے بچے پال کر سال میں دو بار اچھی قیمت پر فروخت کر سکتے ہیں اور برائلر مرغی کے زہر کے متبادل کے طور پر آپ تھوڑی مہم چلا کر خرگوش سے سستے صاف اور بہترین گوشت کو فروخت کر سکتے ہیں.
👚 گارمنٹس👗
آپ بڑے شہروں سے سستے اور معیاری بچوں اور خواتین کے سوٹ خرید کر مناسب ریٹ خوبصورت منفرد انداز کے ساتھ فروخت کر سکتے ہیں
🥟 سموسہ چاٹ سینٹر 🍜
آپ اپنے گرد اسکول،کالج،یونیورسٹی،ھسپتال بس اسٹینڈ ہاسٹل وغیرہ کے قریب سموسہ و چاٹ سینٹر شروع کر سکتے ہیں جو معیاری نفیس اور بہترین ماحول و انداز سے پیش کیا جائے.
🏘 ریئیل اسٹیٹ مارکیٹینگ 🏪
بغیر کسی سرمائے کے شروع کیا جانیوالا یہ بزنس آجکل پاکستان سمیت پوری دنیا میں مقبولیت حاصل کر رہا ہے۔یہ منافع کمانے کا بہترین آن لائن ذریعہ ہے اور اپنے گھر بلکہ اپنے کمرے میں بیٹھ کر با آسانی اس بزنس کو چلایا جا سکتا ہے۔ اس طریقہ کار میں آپ کسی اور کمپنی کی پروڈکٹ یا سروسز کو انٹرنیٹ یا ایسے ہی کسی دوسرے میڈیم کے ذریعے پروموٹ کرتے ہیں اور اسے فروخت کر کے اپنا طے شدہ کمیشن وصول کرتے ہیں۔
🖥 بلاگ رائٹنگ 📰
بلاگ ایسی ویب سائیٹ یا ویب پیج ہوتا ہے جس پر ہر روز نئی نئی معلومات اور تبصرے لکھے جاتے ہیں۔ایک فرد یا افراد کا ایک گروپ مل کر اس کو پلان کرتا ہے۔بلاگ رایئٹینگ سوشل میڈیا کی اہم ضرورت بن چکی ہے۔پاکستان میں اردو اور انگلش دونوں زبانوں میں اس کی ڈیمانڈ ہے۔ آپ بنا کسی سرمائے کے مختلف ویب سائٹس کے لئے بلاگ رایئٹینگ کا کا م شروع کر کیایک معقول آمدنی کا ذریعہ پیدا کر سکتے ہیں۔
👔 تاجر کاؤنسلِنگ🗣
اگر آپ کے پاس بزنس فیلڈ کا کافی نالج،مہارت اور آئیڈیاز موجود ہیں اور آپ اس سلسلے میں بزنس کے میدان میں داخل ہونیوالے نئے افراد کی مدد کرنے کی سوچ بھی رکھتے ہیں تو آپ ایک بہت اچھے بزنس کاؤنسلر بن کر نہ صرف نئے بزنس کاروباری افراد کو ٹرینڈ کر سکتے ہیں بلکہ ایک اچھا منافع کما سکتے ہیں۔
🎓 اسٹوڈنٹ کیریئر کاؤنسلِنگ 🤵
اگر آپ کے پاس کیریئر کاؤنسلِنگ کی ڈگری یا اس فیلڈ کی کافی زیادہ معلومات موجود ہیں اور آپ کے اندرلوگوں کی چھپی صلاحیتوں کا کسی حد تک اندازہ لگانے کی صلاحیت بھی موجود ہے تو آپ اسٹوڈنٹس کے لئے ایک اچھے کر نہ صرف کمیونٹی کی خدمت کر سکتے ہیں بلکہ ایک باعزت روزگار بھی کما سکتے ہیں.
⛑ کنسلٹنٹ کمپنی 💼
اگر آپ کسی بھی فیلڈ میں بہترین معلومات اور مہارت رکھتے ہیں تو آپ اس فیلڈ میں پہلے سے موجود یا نئی آنیوالے لوگوں کی رہنمائی کے لئے ایک کنسلٹنگ کمپنی کا قیام عمل میں لا سکتے ہیں ۔لیکن اس کے لئے فیلڈ کی وسیع معلومات و مہارت درکار ہے۔
✍ کونٹینٹ رائٹنگ 📖
تمام کمپنیوں اور اداروں کو پروموشن کے لئے تحریری شکل میں ایک قابلِ توجہ مواد کی ضرورت ہڑتی ہے جو زیادہ سے زیادہ کسٹمرز کی توجہ حاصل کر سکے۔اگر آپ کے اندر اردو یا انگلش زبان میں ایسا پرکشش کونٹینٹ تخلیق کرنے کی صلاحیت موجود ہے تو آپ ایک نہایت کامیاب کونٹینٹ رائیٹنگ کا کاروبار شروع کر سکتے ہیں اور مختلف کمپنیوں اور اداروں کو کونٹینٹ فراہم کر سکتے ہیں۔
🕶 لائف کنسلٹنگ🌏
اگر آپ کا مطالعہ آپ کی معلومات آپ کا تجربہ اور آپ کی سنجیدگی اور ڈیلنگ اچھی ہے تو آپ پریشان ذدہ لوگوں کو زندگی جینے کے گر سکھا کر ان کے مسائل حل کر سکتے ہیں.اس میں عزت ہے علم ہے اور بہترین کاروبار بھی ہے.
💻 یوٹیوبر🎥
اگر آپ میں کسی بھی طرح کی مہارت ھے، جسے آپ ویڈیوز کی صورت میں اس بہترین انداز میں پیش کرسکتے ھیں کہ جس میں دنیا بھر کے لوگوں کے لیے کچھ سیکھنے یا تفریح کا موقع ھو تو فورا یوٹیوب پر اپنا چینل بناکر ڈھیروں کماسکتے ھیں.
📡 آن لائن اسٹور💺
انٹرنیٹ پر Olx کی طرح کئی ویب سائٹس ھیں جو آپ کو مفت اسپیس فراہم کرتی ھے جہاں آپ اپنی کوئی بھی پراڈکٹ آن لائن بیچنے کے لیے رکھ سکتے ھیں، جہاں گھر بیٹھے آپ کمائی کرسکتے ھیں.
🏍 بائیک رائیڈر 🛵
اگر آپ شہر کے شاھراہوں کا بخوبی علم رکھتے ھوں اور آپ کے پاس اپنی موٹر سائیکل ھوتو آپ کریم، اوبر اور فوڈپانڈہ جیسی کمپنیوں سے منسلک ھوکر اچھی خاصی کمائی کرسکتے ھیں.
🤝 دراز دوست 🤝
آن لائن شاپنگ ویب سائٹ "دراز" نے دراز دوست کے نام سے ایک نیا سلسلہ شروع کیا ھے جس سے منسلک ھو کر آپ بہترین کمائی گھر بیٹھے کرسکتے ھیں.
📱 ایپ ڈویلپرز 🖥
موبائل کا دور چل رھا ھے، ایپ بنانے کا چھوٹا سا کورس کرکے آپ خود گھر بیٹھے مختلف ایپس بناکر اسے پلے اسٹور میں ڈال کر گھر بیٹھے زبردست کمائی کرسکتے ھیں



amazing ideas

 دوستو

آپ میں سے تقریباً سبھی کے پاس انڈرائیڈ فون ہونگے۔۔ کچھ دوستوں کے پاس جدید اور مہنگے سمارٹ فون ہونگے اور کچھ کے پاس میرے موبائل جیسے پرانے اور سستے ماڈل ہونگے۔۔ آپ سب ہی لوگ سمارٹ فون کے کیمرہ فنکشن سے واقف ہونگے ہی ۔۔ زیادہ تر لوگ کیمرہ کے دوتین فنکشنز جانتے ہیں جیسے اگلے اور پچھلے کیمرے سے تصاویر بنانا یا ویڈیوز بنانا۔۔ لیکن انڈرائید فون کے کیمرے سے کئی دوسرے زبردست اور مفید کام بھی لیئے جاتے ہیں۔۔ جن میں سے پانچ کا ذکر یہاں کررہا ہوں۔ آپ انہیں پلے سٹور سے اپنے سمارٹ فون پر انسٹال کرسکتے ہیں۔
1۔ Google Translator اس سافٹ وئیر سے تو سبھی لوگ واقف ہونگے۔۔ آپ اسے انسٹال کریں۔ زبان کی سیٹنگ کریں۔ اسکے اندر کیمرہ کے نشان کو کلک کریں۔۔ پھر اس کیمرہ کو گھر میں کہین بھی لکھی ہوئ انگریزی یا اردو پر لے جائیں وہ آپکو اردو یا انگلش میں ترجمہ کرکے دکھا دے گا۔۔
2۔ PhotoMath ۔۔۔اسے انسٹال کریں ، اسکے اندر جاکر کیمرہ آن کریں۔۔ کاغذ پر پن سے ریاضی کا کوئ بھی مشکل یا آسان سوال لکھیں۔۔ کیمرہ اس لائین کے اوپر لے جائیں یہ اسے فوکس اور سکین کرکے آپ کو سیکنڈوں میں جواب دکھا دے گا
3۔ IP Webcam۔۔۔ اس ایپ کی مدد سے آپ اپنے موبائل کو خفیہ یا سیکورٹی کیمرہ میں تبدیل کرسکتے ہیں۔اگرچہ میں نے اسے خود یوز نہیں کیا لیکن اسکی ڈسکرپشن دیکھی ہے۔ اس ایپ کو اوپن کریں اسکے اندر سے ایپ کا آئی پی ایڈریس نوٹ کریں۔۔ اس آئی پی ایڈریس کو اپنے کمپیوٹر یا دوسرے موبائل کے براؤزرز میں ڈالیں ۔۔اب جو مناظر اپ کا پہلا کیمرہ دکھائے گا وہی آپ کا ڈسک ٹاپ یا دوسرا موبائل دکھائے گا۔۔
4۔ CrookCatcher - Anti Theft۔۔۔یہ سب سے زبردست ایپ ہے۔۔ اگر آپ کا موبائل کہیں گم یا چوری ہوجائے اور چور جب اسے یوز کرنے کے لیئے موبائل کا سیکورٹی پن یا پیٹرن غلط لگائے گا تو یہ سافٹ وئیر اپنا کام شروع کردے گا،، یہ موبائل کے فرنٹ کیمرے سے اس چور کی تصویر بنالے گا۔۔ پھر اس تصویر اور لوکیشن کو آپ کے دیئے گئے ای میل ایڈریس پر بھیج دے گا۔۔
5۔CamScanner - Phone PDF Creator ۔۔۔ اس ایپ کی مدد سے آپ اپنی لائیبریری میں موجود کسی بھی چھوٹی یا بڑی کتاب کو منٹوں میں پی ڈی ایف فارمٹ میں تبدیل کرسکتے ہو۔۔ اس ایپ کی مدد سے کیمرہ آن کریں۔۔ جس پیج کو کنورٹ کرنا ہے اسے فوکس کرکے تصویر لیں اور کنورٹ کریں۔۔۔



ٹیچرز کے لیئے ایک منعفت بخش کاروبا business idea for teachers

 ٹیچرز کے لیئے ایک منعفت بخش کاروبا

میرے ایک دوست ہیں جنہوں نے اپنی پچیس سالہ ٹیچنگ کی ملازمت سےمستقل مزاجی ہی سیکھی، اس کے پاس تعلیم تھی اور پڑھانے کا تجربہ بھی ۔۔۔ ریاضی انگلش اور سائنسی مضامین کے علاوہ اسے کمپیوٹر پہ بھی مہارت حاصل تھی ، اس لئے اس نے اپنی تعلیم کو مستقبل کے خوشحال راستوں کے لئے رہنما بنا لیا، گھر کے بالائی پورشن پہ رہائش اختیار کی اور نیچے والے پورشن میں اکیڈمی کا سیٹ اپ بنا لیا، نیچے والے پورشن میں چار روم تھے ، ایک آفس بنا لیا اور تین کلاس روم سیٹ کر لئے ۔۔مکان اپنا تھا اور ٹیچر وہ خود تھا ، چاروں کمروں میں رنگ و روغن اور کارپٹ بچھانے پہ 20 ہزار لگے اور 3 ہزار کے اشتہار چھپوا کر علاقے میں لگوا دئیے ، چونکہ ان کی ساری سروس مقامی ہائی سکول میں رہی تو علاقہ سے سٹوڈنٹس ملنا کچھ مشکل نہ تھا ، تعداد آہستہ آہستہ بڑھنے لگی اور جگہ کم پڑتی گئی ، اپنے ہم عصروں کی خدمات بھی لے لی گئیں اور تعداد میں بتدریج اضافہ ہوتا گیا ،
اکیڈ می کے چار سیشن ہوگئے ،
پہلا سیشن صبح 8 سے 10 بجے تک پرائیویٹ تیاری کرنے والے سٹوڈنٹس کا سیشن تھا ، جن میں میٹرک ، ایف ۔ اے اور بی۔ اے اور ایم ۔ اے کے طلبا ء تھے ۔۔
دوسرا سیشن 1 سے 3 بجے تک تھا جس میں پرائیویٹ طالبات پڑھتی تھیں اور اس کے لئے باقاعدہ ایک ریٹائرڈ فی میل کی خدمات لی گئیں تھیں ،
تیسرا سیشن سکول کے حالیہ سٹوڈنٹس کے لئے ہوتا جو شام کے وقت آسانی سے تعلیم پہ توجہ دے سکتے تھے ۔
چوتھا سیکشن انگلش لینگویج اور کمپیوٹر کلاسز کا تھا جو شام پانچ سے رات 10 بجے تک جاری رہتا ۔
ایک ہی سال میں ہر سیشن میں 15 سے 20 طلبا/ طالبات تھے ، اس حساب سےکل تعداد 200 کے لگ بھگ تھی ، شہاب غوری نے ایک ہی سال میں چار اور ٹیچرز کو بھی اپنے ساتھ شامل کر لیا تھا جن میں سے ایک انگلش لینگویج کا ٹیچر ایک کمپیوٹر انسٹرکٹر اور کالج سطح کے مضامین کے لئے ایک پروفیسر اور طالبات کے لئے ایک ریٹائرڈ فی میل ٹیچر ۔۔۔ ان کے علاوہ صفائی کے لئے دو ماسیاں بھی رکھی گئیں ۔۔۔ پہلے پہل شہاب غوری تنخواہ اپنی جیب سے دیتا رہا بعد ازاں جب تعداد بڑھ گئی تو ٹینشن جاتی رہی ، ایک ہی سال میں تعداد پوری ہو چکی تھی ، شہاب غوری کی کم فیس کی وجہ سے سٹوڈنٹس کی تعداد میں خاطر خواہ اضافہ ہوگیا ، فیس کا شیڈول کلاسز کے حساب سے مختلف تھا، فیس کی مد میں تقریباً 1 لاکھ 23 ہزار روپے وصول ہو رہے تھے ، تنخواہوں کی مد میں 52 ہزار خرچ ہو جاتے ، بجلی کے بلز اور جنریٹر کی مینٹیننس وغیرہ کی مد میں دس ہزار لگ جاتے ، کل ملا کر ماہانہ پچاس ہزار روپے بچ رہے تھے ، پہلے سال کی رقم تنخواہوں کی مد میں چلی گئی تاہم دوسرے سال میں ماہانہ پچاس ہزار روپے کی رقم سال بھر میں پانچ لاکھ سے تجاوز کر چکی تھی ، گھر کا خرچ پنشن پہ چل رہا تھا ، باقی رقم بینک میں تھی ،جس میں سال بھر کے پانچ لاکھ روپوں کا اضافہ ہورہا تھا ،
تیسرے سال میں اس کی قسمت مزید چمک گئی جب بورڈ میں اکیڈمی کے ایک میٹرک سٹوڈنٹ کی پوزیشن آگئی ، اب دھڑا دھڑ لوگوں نے اکیڈمی کا رخ کرنا شروع کیا ، اپنے لئے سات ہزار روپے ماہانہ پہ مکان لیا اور اوپر والے پورشن کو بھی اکیڈمی کا حصہ بنا لیا ، چوتھے سال میں ریکارڈ ساز ترقی ہوئی ، نام روشن ہونے کی وجہ سے فیسیں بھی بڑھ گئیں ، محنت اور قابلیت کے بل بوتے پہ پانچ سو کے لگ بھگ تعداد ہوگئی اور ماہانہ دو لاکھ روپے کی بچت ہونے لگی۔۔اگلا سال اس سے بھی زیادہ شاندار رہا ، محض پانچ سال میں اس نے 70 لاکھ روپے کما لئے ، 4 لاکھ دو بیٹیوں کی شادیوں پہ لگ گئے ، 15 لاکھ روپے سے بیٹے کو ایک ریسٹورینٹ بنا دیا ، اور 35 لاکھ روپے سے شہر کے پوش ایریا میں اکیڈمی کے سب کیمپس کے لئے ایک مکان لے لیا ۔۔شہاب غوری کا اگلا ہدف ایک شاندار پرائیویٹ سکول کا ہے ۔۔۔یہ ہے تعلیم کا کمال۔۔۔سرمایہ نہ ہو تو تعلیم کو اس طرح کام میں لایا جا سکتا ہے۔۔
اپنی زندگی کےپچیس سال ملازمت کو دینے والا اگر صلاحیتوں کے صحیح استعمال سے واقف ہو جائے تو وہ حیرت انگیز بلندیوں کو چھو لیتا ہے۔۔اگر آپ تعلیم یافتہ ہیں تو اپنے آپ کو دیکھئے سوچئے اور پھر فیصلہ کیجئے کہ اپنی تعلیم کی سرمایہ کاری بطور ایک پروفیشنل کیسے کر سکتے ہیں ؟؟؟؟

ice cream business idea

 گرمیوں کی آمد آمد ہے

کہتے ہیں “اگر آپکو آئسکریم خوش نہیں کر سکتی تو کوئی بھی خوش نہیں کرسکتا” ۔ تھائی آئسکریم ایک ابھرتا ہوا کاروبار ہے جو تیزی سے نشوونما پا رہا ہے ۔یہ آئسکریم کی تازہ ترین قسم ہے جس میں آپ اپنی مرضی کا پھل ،چاکلیٹ ڈلوا کر اپنی آنکھوں کے سامنے منفی 25 ڈگری (۲۵۔ ) سینٹی گریڈ پر آئسکریم کو تیار ہوتے دیکھتے ہیں ۔آجکل لائیو کوکنگ کو بہت پسند کیا جا رہا ہے ۔کسٹمرز اپنی آنکھوں کے سامنے کھانے کی چیز کو تیار ہوتے دیکھ کر بہت خوش اور مطمئن ہوتے ہیں
بچوں کی پسند کو دیکھتے ہوئے آجکل اس میں چاکلیٹس فلیورز کا بھی اضافہ ہو رہا ہے ۔
ایک کپ پر لاگت بہت کم آتی ہے اور منافع بہت زیادہ ہے ۔ایک کپ تقریباً چالیس سے پچاس روپے میں تیار ہوتا ہے اور ڈیڑھ سو سے لے کر چار سو روپے تک بکتا ہے ۔علاقے کی مناسبت سے کاسٹ میں کمی بیشی ممکن ہے ۔لیکن منافع کی شرح بہت زیادہ ہے۔
سکول ، شاپنگ مالز اور مصروف شاہراہیں اس کاروبار کے لیے زیادہ مناسب ہے ۔
رہا سوال مشین کا، تو یہ مقامی طور پر گوجرانوالہ میں بھی تیار ہو رہی ہے اور چائنہ سے بھی امپورٹ کی جا رہی ہے ۔ چائنہ والی مشین کی قیمت تقریباً ۲۲۵۰۰۰ روپے ہے ۔
تقریباً پانچ لاکھ روپے سے شروع ہونے والا یہ کاروبا ر انتہائی نفع بخش ہے ۔ آئسکریم کے ساتھ shakes and smoothies
بھی رکھی جا سکتی ہیں ۔یہ کاروبار گرم علاقوں میں سارا سال ہی چلتا ہے ۔
اگر کسٹمرز کی تعداد بڑھانی ہو تو کون آئسکریم مشین بھی رکھی جا سکتی ہے ۔اسکی قیمت پانچ لاکھ میں شامل نہیں ہے ۔
آخری بات !!!!!
دو لاکھ سے کم آبادی والے شہر میں یہ کاروبار شروع نہ کریں ۔ تحصیل لیول کے تقریباً تمام شہروں میں یہ کام کم محنت سے چل سکتا ہے ۔
ملازموں کو اچھی تنخواہیں اور عزت دیں ۔
اللہ پاک آپکو کامیاب کرے ۔اور دوسروں کو روزگار دینے کا سبب بنائے ۔ دعاؤں میں یاد رکھئے گا ۔
Thanks to
محمد ریحان
اس کو بنانے یا سیکھنے کے لیئے یو ٹیوب سے استفادہ کریں





خود پکارے گی جو منزل تو ٹھہر جاؤں گا

 خود پکارے گی جو منزل تو ٹھہر جاؤں گا

ورنہ خود دار مسافر ہوں گزر جاؤں گا
کاروانِ روزگار دنیا بھر میں اپنی نوعیت کا پہلا پروگرام ہے جس میں معاشرے کے عام لوگ جنہیں اللہ پاک نے تعلیم ،عملی تجربے یا مشاہدے کی نعمت سے سرفراز کیا
وہ اپنے ہی معاشرے کے ان دوستوں اور نوجوانوں کی راہنمائ کے لیئے یکجا ہوۓ
جنہیں کسی رستے کی تلاش ہے اور انہیں اپنی منزل تک پہنچنے یا اپنا رستہ تلاش کرنے کے لیئے راہنمائ درکار ہے تو
یہ تمام مبلغین اپنے ذاتی خرچ اور وسائل ، اپنے کاروباری ا اپنی دیگر مصروفیات کو پس پشت ڈال کر اپنے معاشرے یا قوم کے نوجوانوں کے بہتر مستقبل اور ارضِ پاکستان کی ترقی میں اپنا حصہ ڈالنے کے لیئے اس راہ پہ نکلے ہیں
کاروان روزگار انشاءاللہ پاکستان کے ان شہروں میں منعقد ہونے جا رہا ہے جہاں معاشرے میں نوجوانوں کی حقیقی ترقی کے خواہاں دوستوں نے اپنے وسائل اور اپنے قیمتی وقت کی قربانی کے چذبے کے ساتھ کاروان روزگار کے شرکاء کو اپنے شہر آنے کی دعوت دی
میں ذاتی طور پر اپنی اور اپنی ٹیم کی جانب سے ان تمام دوستوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں
جو ہماری ٹیم کا حصہ بنے
یا جو ہمارے قافلے اور شہر یا علاقے کے نوجوانوں کے بہتر مستقبل کی خاطر میزبانی کا بیڑہ اٹھایا
اس کا اجر آپ کو انشاءاللہ ضرور ملے گا



Potato flakes business in Pakistan and other countries

  #خشک_آلوؤں_کا_چورا ( potato flakes )

پاکستان میں اوسطاً پچاس لاکھ ٹن آلو پیدا ہوتا ہے جبکہ ہمارا استعمال تیس لاکھ ٹن سالانہ کے قریب ہے. پچھلے سال ہم نے تقریباً چھ لاکھ ٹن آلو برآمد کیے. اس حساب سے اگلے سال کے بیج کو چھوڑ کر کوئی سات سے دس لاکھ ٹن آلو ہمارے پاس سالانہ وافر ہوتا ہے. جس کا بیشتر حصہ یقیناً ضائع ہوتا ہوگا. آلو کے موسم میں آلو کی اس بہتات کہ وجہ سے موسم میں اس کے منڈی میں نرخ دس روپے فی کلو تک چلے جاتے ہیں.
دوسری طرف آپ جان کر حیران ہوں گے کہ سال دوہزار انیس میں دنیا بھر میں چھ ارب ڈالر کا آلوؤں کا چورا بکا. آلوؤں کا چورا یعنی (potato flakes ) ہر اس کام کیلئے استعمال کیا جاتا ہے جس کیلئے تازہ آلوؤں کی پیسٹ استعمال ہوتی ہے. اس سے آلو کے کباب اور چپس تو بنائے ہی جاتے ہیں ساتھ ہی ہر قسم کے شوربہ کو گاڑھا کرنے کے لیے، دودھ اور مشروبات کو گاڑھا کرنے کے لیے، آئس کریم اور چاکلیٹ وغیرہ کی شکل اور ذائقہ بہتر کرنے کیلئے استعمال کیا جاتا ہے.
مزید حیرانی کی بات یہ ہے کہ بھارت میں سینکڑوں چھوٹی بڑی فیکٹریاں سالانہ لاکھوں ٹن خشک آلوؤں کا چورا بنا کر دنیا بھر کے ممالک کو برآمد کررہی ہیں. ستم بالائے ستم یہ کہ بھارت سے درآمدات پر پابندی سے پہلے پاکستانی تاجران بھی سینکڑوں ٹن سالانہ خشک آلوؤں کا چورا سالانہ بھارت سے منگواتے رہے. ( دستاویزات تصاویر میں). جبکہ دوسری طرف وطن عزیز کے ننانوے فیصد لوگ آلوؤں کی اس بیش قدر مصنوعہ کے نام سے بھی واقف نہیں. جبکہ لاکھوں ٹن آلو سالانہ ضائع ہورہے ہیں.
آلو میں اوسطاً پچہتر فیصد نمی ہوتی ہے. یوں اگر آلوؤں کو خشک کیا جائے تو چار کلوگرام آلو سے ایک کلو آلو کے فلیکس بنائے جاسکتے ہیں. سیزن میں انکی تھوک کی قیمت دس روپے کلو گرام ہوتی ہے. گویا چالیس روپے کے خام مال سے ایک کلو چورا تیار ہوجائے گا. اگر ساٹھ روپے فی کلوگرام بھی خرچ آئے (جو کہ ہر صورت اس سے کم آئے گا). تو بھی سو فیصد منافع پر برآمد کیا جاسکتا ہے. کیونکہ عالمی منڈی میں اس کی قیمت ایک اعشاریہ تین ڈالر سے ایک اعشاریہ پانچ ڈالر تک ہوتی ہے. گویا کم ازکم دوسو بیس روپے فی کلوگرام.
یوں تو اس کے درمیانے سائز کے پلانٹ پانچ سے آٹھ ٹن روزانہ استعداد کے ہوتے ہیں. جن کی لاگت دس کروڑ سے بیس کروڑ تک ہوتی ہے. اور اوسطاً پچیس فیصد ریٹ آو ریٹرن پر چلتے ہیں. مگر میرے خیال میں اسے بہت آرام سے گھریلو صنعت کے طور پر بھی اپنایا جاسکتا ہے.
آلو سے چورا بنانا انتہائی آسان عمل ہے. انہیں چھیل کاٹ کر ابال لیں. اچھی طرح ابلے آلوؤں کو پیس کر پیسٹ بنالیں. اس پیسٹ کو فیکٹریوں میں تو سٹین لیس سٹیل کے گھومتے ہوئے رولز پر کہ جن کے اندر سے بھاپ گذاری جارہی ہوتی ہے، چپکا کر خشک کیا جاتا ہے. انہیں potato drum dryers کہتے ہیں. یہ چھوٹے پیمانے پر بھی بنائے جاسکتے ہیں. لیکن اس پیسٹ کو ڈی ہائیڈریٹر کی ٹرے پر باریک تہہ کی صورت میں لگا کر خشک کرنے سے بھی چورا حاصل کیا جاسکتا ہے. پہلے اس سے باریک پاپڑ نما چیز بنے گی جسے تھوڑا سا پیسنے پر چورا بن جائے گا. گھر میں خواتین فارغ وقت میں دس بیس کلو چورا روزانہ بنا سکتی ہیں. جس سے انکو ہزار سے دوہزار کی فالتو آمدنی ہونے کی توقع ہے.
اسی طرح کچھ کسان مل کرکم سرمایہ سے چار پانچ سو کلو روزانہ کے یونٹ لگا سکتے ہیں. آلو برآمدگان خشک آلو کے چورے کے بھی آرڈر پکڑیں. اور ان چھوٹی فیکٹریوں سے معیاری مال لیکر باہر بھجوائیں. جو تاجران باہر سے منگوا کر پاکستانی ہوٹلوں اور فوڈ کمپنیوں کو سپلائی کررہے تھے وہ بھی مقامی لوگوں سے مال خریدیں. یقین کریں دو چار سال میں اربوں روپے کی نئی صنعت کھڑی ہوجائے گی جس سے ہزاروں لوگوں کو باعزت روزگار ملے گا.. انشاءاللہ.



 یہ کہانی کرونا وائرس ختم ہونے کے بعد کی ہے

پڑھ اب لیں عمل بعد میں کریں
کاروباری اداروں میں ایسا مقابلہ، جس میں دو یا اس سے زیادہ ادارے بیک وقت ایک ہی ہدف کو حاصل کرنے کی کوشش کریں۔ عمدہ معیار، بہترین خدمات اور رعایتی قیمتوں کی پیشکش کرکے اپنی فروخت بڑھانا یا نفع میں اضافہ کرنا۔ جس مقام پر مارکیٹ آزادانہ طور پر کام کرے، وہاں مقابلہ (competition) کے ذریعے ہی رسد اور طلب (supply and demand)میں توازن پیدا کیا جاسکتا ہے۔
کاروباری مقابلہ یابزنس کمپٹیشن نہ صرف ایک جائز صورت بلکہ اپنے کاروبار نیز ملکی معیشت کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے ناگزیر ہوتا ہے۔ اس کے اصول و ضوابط کو جان کر آدمی درست انداز میں مارکیٹ کا مقابلہ کرنے کے قابل ہوتا ہے۔ سب سے بہتر بزنس کمپٹیشن وہ ہے جو جھوٹ، فریب، دھوکے، دو نمبری، ملاوٹ اور بالخصوص حسد سے مکمل پاک ہو۔ اگر آپ اس کمپٹیشن کا حصہ بننے جا رہے ہیں تو یہ درج ذیل تفصیل کو ضرور پیش نظر رکھیے۔ آپ ایک کامیاب کمپیٹیٹر ثابت ہوں گے۔
صلاحیتوں اور کمزوریوں کی جانچ پڑتال کو جدول کی ترتیب دینا زیادہ بہتر ہے ٭
آپ کے چھوٹے پیمانے کے کاروبار کی کامیابی کے لیے یہ ضروری ہے کہ آپ کو اپنے کاروباری حریفوں کے بارے میں اتنی زیادہ معلومات ہوں جتنی کہ آپ اپنی ذاتی کمپنی اور گاہکوں کے بارے میں رکھتے ہیں۔ بدقسمتی سے چھوٹے پیمانے کے کاروبار کے بہت سے مالکان اس وقت تک یہ زحمت نہیں فرماتے جب تک ایک حریف ان کے سامنے ایک دکان کھول کر ان کے منافع میں کمی نہیں کر دیتا۔
کاروباری مقابلے کے تجزیے سے آپ کو پتا چلتا ہے کہ آپ کے حریف کون کون ہیں اور ان کی کمزوریاں اور خوبیاں کیا ہیں۔ اپنے حریفوں کے اقدامات جاننے سے آپ کو اس بات کا بہتر اندازہ ہو گا کہ آپ کو کن چیزوں اور خدمات کی پیشکش کرنی چاہیے۔ آپ ان چیزوں کو کس طرح بہتر طریقے سے مارکیٹ میں پیش کر سکتے ہیں اور کیسے آپ اپنے کاروباری مقام کا تعین کر سکتے ہیں۔
کاروباری مقابلے کا تجزیہ ایک مسلسل عمل ہے۔ آپ کو اپنے حریفوں کے متعلق معلومات ہمیشہ اکٹھے کرتے رہنا چاہیے۔ ان کی ویب سائٹس دیکھیں۔ ان کی پروڈکٹس کا تحریری مواد اور پمفلٹ پڑھیں۔ ان کی چیزوں استعمال کر کے دیکھیں۔ یہ دیکھیں کہ وہ تجارتی میلوں میں اپنے آپ کو کیسے دکھاتے ہیں۔ اپنی صنعت کی تجارتی مطبوعات میں ان کے بارے میں پڑھیں۔ اپنے گاہکوں سے مسابقانہ چیزوں اور خدمات کے بارے میں بات چیت کریں اور ان کی رائے لیں۔ بزنس کمپیٹیشن کی طرف بڑھتے ہوئے اول قدم پر آپ کو یہ چار کام کرنا ہوں گے:
1 اپنے مقابلے کی شناخت کریں
2 خوبیاں اور خامیاں جانیں
3 مواقع اور خطرات کے بارے میں جانیں
4 اپنی پوزیشن کا اندازہ لگائیں
ہر کاروبار کے حریف ہوتے ہیں اور آپ کو یہ جاننے کے لیے وقت صرف کرنا ہو گا کہ جن ضروریات کو آپ کی پروڈکٹ یا سروس پورا کرتی ہے، اسی طرح کی پروڈکٹ یا سروس کے لیے آپ کے گاہک کس کے پاس پہنچیں گے۔ بلکہ اگر آپ کی پروڈکٹ یا سروس واقعی جدت طراز ہے تو بھی آپ کو یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ آپ کے گاہک اس کام کو پورا کرنے کے لیے کیا کچھ خریدیں گے۔ مثلاً: اگر آپ کا کاروبار آن لائن ہے اور آپ ای بکس فروخت کرتے ہیں تو آپ اپنے سرچنگ کے عمل کو مسلسل جاری رکھتے ہوئے اپنے ہم پیشہ لوگوں کے طریق کار کا تنقیدی جائزہ لیں۔ اسی طرح مارکیٹ کا مفصل سروے کریں۔اس عرق ریزی کی نتیجے میں آپ کے علم میں آئے گاکہ آپ کے کاروباری حریف تین طرح کے ہیں:
ایک وہ جو براہ راست آپ کے حریف ہیں۔ دوم جو ثانوی یا بالواسطہ ہیں۔ تیسرے جو متوقع حریف ہیں۔ اس کے بعد آپ کے پروڈکٹس یا سروسز کا تجزیہ کرنا شروع کریں گے۔آپ یہ تجزیے اپنے بنیادی حریفوں سے شروع کریں۔ یہ مارکیٹ کی رہنمائی کرنے والے لوگ ہیں۔ یہ وہ کمپنیاں ہیں جو اس وقت آپ کی مارکیٹ پر چھائی ہوئی ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جن سے نئے کسٹمرز تلاش کرتے وقت آپ کا رابطہ ہوتا ہے۔ اگر آپ پھول بیچنے والے ہیں تو پھر آس پاس کوئی دوسرا گل فروش بھی ہوگا۔ اگر آپ کمپیوٹر کے مشیر ہیں تو پھر ایسے ہی دوسرے مشیران بھی موجود ہوں گے۔ اگلے مرحلے میں اپنے ثانوی اور بالواسطہ حریفوں کی تلاش کریں۔ یہ وہ کاروبار ہیں جن کا آپ کے ساتھ بلاواسطہ مقابلہ نہیں ہے لیکن وہ بھی اسی عام مارکیٹ کو نشانہ بنا رہے ہیں جس کو آپ نشانہ بنا رہے ہیں۔ اگر ہم گل فروش کی مثال کو آگے بڑھائیں تو ثانوی حریفوں میں گلاب کے پھولوں کا چھوٹا مقامی اسٹور ہو سکتا ہے یا پھولوں کی فراہمی کی ایک قومی سروس ہو سکتی ہے یا آپ کی مقامی سپر مارکیٹ اور ڈسکاؤنٹ اسٹور کا پھولوں اور پودوں کا شعبہ بھی ہو سکتا ہے۔ اس کے بعد آپ اپنے متوقع حریفوں کو دیکھیں۔ یہ وہ کمپنیاں ہیں جو آپ کی مارکیٹ میں داخل ہو سکتی ہیں اور جن کا مقابلہ کرنے کے لیے آپ کو تیاری کی ضرورت ہے۔ مثال کے طور پر آپ منجمد دہی کی دکان چلا رہے ہیں تو آپ کو منجمد دہی کی قومی فرنچائزز کا مقابلہ کرنے کے لیے تیاری کی ضرورت ہے۔ اگرچہ ابھی تک وہ آپ کی مارکیٹ میں نہیں پہنچی ہیں۔
جب آپ نے اپنے حریفوں کو جان لیا ہے تو یہ جانیں کہ ان کی صلاحیتیں کیا کیا ہیں؟ نیز تلاش کریں کہ ان کی کمزوریاں کیا کیا ہیں؟ لوگ ان سے کیوں خریدتے ہیں؟ قیمت کی وجہ سے؟ کوالٹی کی وجہ سے؟ سروس کی وجہ سے؟ سہولت کی وجہ سے؟ شہرت کی وجہ سے؟ اپنے حریفوں کی ان تخیلاتی صلاحیتوں اور کمزوریوں پر بھی اتنی ہی توجہ دیں جتنی توجہ آپ ان کی اصل صلاحیتوں اور کمزوریوں پر دیتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ گاہک کی ان اشیا کے متعلق سوچ، ان اشیا کی حقیقت سے زیادہ اہم ہے۔
صلاحیتوں اور کمزوریوں کی جانچ پڑتال کو جدول کی ترتیب دینا زیادہ بہتر ہے۔ اپنے ہر حریف کا نام لکھیں۔ پھر اپنے کاروبار کے ہر پہلو کے لیے کالم بنانا شروع کریں۔ مثال کے طور پر قیمت، کوالٹی، سروس، جگہ، شہرت، تجربہ، سہولت، افراد، اشتہارات، مارکیٹنگ یا پھر وہ سب کچھ جو آپ کی کمپنی کے لیے مناسب ہے۔ جب آپ یہ ٹیبل بنا لیں تو اپنے حریفوں کی درجہ بندی کریں اور اس درجہ بندی کے بارے میں اپنی رائے بھی دیں۔ آپ صلاحیتوں کو سرخ اور کمزوریوں کو نیلے رنگ میں لکھ سکتے ہیں تاکہ آپ ایک نظر ڈال کر ہی یہ بتا سکیں کہ ہر حریف کی کیا صورتحال ہے۔ ٭…کامیابی کے مواقع اور خطرات سے متعلق جاننا:
صلاحیتیں اور کمزوریاں اکثر ایسی چیزیں ہیں جو کمپنی کے کنٹرول میں ہوتی ہیں لیکن جب آپ اپنے کاروباری مقابلے کا جائزہ لے رہے ہوں تو پھر آپ کو یہ بھی جاننے کی ضرورت ہو گی کہ انہوں نے اپنے دائرہ اختیار سے باہر کی چیزوں کو سنبھالنے کے لیے اپنے آپ کو کتنے اچھے طریقے سے تیار کیا ہے۔ ان کو کاروباری مواقع اور خطرات کہا جاتا ہے۔ کاروباری مواقع اور کمزوریوں کی کافی اقسام ہیں۔ ان اقسام میں ٹیکنالوجی میں ترقی، قانونی یا پھر آئینی اقدامات، معاشی عوامل یا پھر کوئی ممکنہ نیا حریف وغیرہ شامل ہیں۔ مثال کے طور پر ایک کمپنی جو ویب پر اشیا بیچتی ہے اس کو یہ جانچنا چاہیے کہ اس کے حریفوں نے آن لائن سکیورٹی کے مسائل سے نمٹنے کے لیے کتنی تیاری کی ہے۔ ایسا کرنے کا ایک موثر طریقہ یہ ہے کہ ایک ٹیبل بنایا جائے جس میں آپ کے حریفوں اور بیرونی عوامل جو کہ آپ کے ادارے پر اثرانداز ہوں گے، کے بارے میں معلومات ہوں۔ پھر آپ یہ بتانے کے قابل ہوں گے کہ آپ کے حریف کاروباری مواقع اور خطرات سے کیسے نمٹتے ہیں۔
خود احتسابی:
جب ایک دفعہ آپ یہ جان لیں کہ آپ کے حریف کی صلاحیتیں اور کمزوریاں کیا ہیں تو آپ کو یہ جاننے کی ضرورت ہو گی کہ اس کاروباری مقابلے میں آپ نے اپنے حریفوں کے ساتھ کس کس جگہ پر مقابلہ کرنا ہے۔ ان میں سے کچھ نکات آپ کے تجزیے کے نتیجے سے واضح ہو سکتے ہیں لیکن آپ کو یہ بھی پتا ہونا چاہیے کہ آپ کا کاروبار مقابلہ کیسے کرے گا۔ ایسا کرنے کا سب سے موثر طریقہ یہ ہے کہ آپ اپنے کاروبار کی صلاحیتوں، کمزوریوں اور کامیابی کے مواقع اور متعلقہ خطرات کا تجزیہ کریں۔ اپنی کمپنی کی اسی طرح درجہ بندی کریں جس طرح آپ نے اپنے حریفوں کی درجہ بندی کی تھی۔ اس سے آپ کو زیادہ واضح تصویر ملے گی کہ اس کاروباری مقابلے میں آپ کا کاروبار کس جگہ کھڑا ہے۔ اس سے آپ کو یہ جاننے میں بھی مدد ملے گی کہ کون کون سے شعبوں میں آپ کو محنت کرنے کی ضرورت ہے اور زیادہ گاہک بنانے کے لیے آپ کو کاروبار کی کون کون سی خصوصیات سے فائدہ حاصل کرنا چاہیے۔
کاروباری رقابت یابزنس کمپٹیشن اپنی ذات میں ہرگز برا نہیں۔ بلکہ معاشی ترقی اور اقتصادی خوشحالی کے لیے یہ ایک ضروری چیز ہے۔ تا ہم اس میں حسد اور ناروا باتوں سے بچتے ہوئے شرکت کرنی چاہیے۔ اس مقصد کے لیے درج بالا اصول و ضوابط کا سہارا لیا جائے تو بغیر غلطی اور نقصان کے بہتری کا سفر جاری رہتا ہے۔ سو، آپ سب سے پہلے تو اپنے کاروباری حریف کی شناخت کیجیے۔ پھر اس کی خوبیوں اور خامیوں کا تجزیہ کیجیے۔ اس کے بعد خطرات اور کامیابی کے مواقع پہچاننے کی کوشش کیجیے۔ ان تین مراحل کے بعد آپ اپنی حیثیت و صلاحیت کا بغور جائزہ لیجیے۔ اس طرح آپ ایک اچھے کاورباری حریف ثابت ہو کر اپنے کاروبار کو چار چاند لگائی

How to become rich overnight

in this blog i will tell you  The Illusion of Overnight Riches: A Realistic Guide to Wealth Creation In a world obsessed with instant gratif...